مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 545
545 نوجوانوں سے ایک اہم خطاب " آج کل اسلامی شعار اختیار کرنے کے انگریزیت کا مقابلہ کرو۔شعائر اسلامی کو ترجیح دو لئے ہمت سے کام لینا پڑتا ہے۔یہ زمانہ ایسا ہے جس میں اسلام کی کوئی چیز بھی باقی نہیں رہی۔لم يبق مِنَ الإِسلام الا اسمة - اسلام صرف نام کا رہ گیا ہے۔تم اگر کسی کو ہیٹ پہنے دیکھو گے تو کہو گے دیکھو وہ انگریز بنا پھرتا ہے۔لیکن اپنے منہ پر دیکھو تو وہاں انگریزیت پائی جاتی ہو گی۔داڑھی منڈوائی ہوئی ہو گی۔تم سرسے انگریز نہیں ہو گے تو منہ سے انگریز بنے ہوئے ہو گے۔کسی کے سر پر پگڑی نہیں ہو گی تو نیچے سوٹ پہنا ہو گا۔غرض کسی نہ کسی رنگ میں انگریزیت غالب ہو گی اور اس کا مقابلہ کرنا تمہیں مشکل معلوم ہو تا ہے"۔" نوجوانوں میں ہمت ہوتی ہے۔نوجوان نادہند والدین کو ایثار اور قربانی کی طرف مائل کریں اس لئے ان کا زیادہ فرض ہے کہ وہ خود بھی چندہ دیں اور دوسروں کو بھی چندہ دینے پر مجبور کریں۔اگر تمہارا باپ نادہندہ ہے تو کم از کم تم یہ تو کہہ سکتے ہو کہ آپ میرے باپ ہیں اور میں آپ کی عزت کرتا ہوں لیکن یہ کتنا ذلیل کام ہے جو آپ کرتے ہیں۔میں صرف خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت آپ کی عزت کرتا ہوں ورنہ جو کام آپ کرتے ہیں وہ ایسا نہیں ہے کہ آپ کی عزت کی جائے۔تمہارے اندر اگر جرات ہو اور تم عقل سے کام لو تو تم یہ کام کرسکتے ہو۔صرف جنون کی ضرورت ہے اور جنون ہی تمہیں کامیاب کرے گا۔جن لوگوں میں جنون ہو گا وہ دوسروں کو مجبور کر دیں گے کہ ان کی بات مانیں اور اس پر غور کریں"۔( فرموده ۳۱ اکتوبر ۱۹۴۹ء مطبوعه الفضل ۲۲ اگست ۱۹۶۴ء)