مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 538

538 میں ہی گفتگو کیا کریں۔جب ہم اردو میں ہی گفتگو کریں گے تو لازمی بات ہے کہ بعض الفاظ کے متعلق ہمیں یہ پتہ نہیں لگے گا کہ ان کو اردو زبان میں کس طرح ادا کرتے ہیں۔اس پر ہم دوسروں سے پوچھیں گے اور اس طرح ہمارے علم میں ترقی ہو گی۔بعض چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں لیکن انسان کو بڑی عمر میں بھی ان کی سمجھ نہیں آتی لیکن جب وہ ایک زبان میں گفتگو کرنا شروع کر دے تو ان پر عبور حاصل کر لیتا ہے۔پس ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ پنجابی زبان چھوڑ دیں اور اردو کو جو اب بے وطن ہو گئی ہے اپنا ئیں۔یہ بھی ایک بڑا مہاجر ہے۔جس طرح مہاجروں کو زمینیں مل رہی ہیں ، چاہئے کہ اسے بھی اپنے ملک میں جگہ دی جائے اور اسے اتار انج کر دیا جائے کہ آہستہ آہستہ یہ ہماری مادری زبان بن جائے۔میں ان لوگوں میں سے نہیں جن کے خیال میں پنجابی زبان کو زندہ رکھنا ضروری ہے۔میرے نزدیک اردو زبان کو ہی ہمیں اپنی زبان بنالینا چاہئے اور اسے رواج دینا چاہئے۔ملک کے کناروں پر اور پہاڑوں پر کہیں کہیں پنجابی زبان باقی رہ جائے تو حرج نہیں۔اگر کسی کو پنجابی زبان سننے اور بولنے کا شوق ہو گا تو وہ وہاں جا کر سن لے گا یا بول لے گا۔پس میری پہلی نصیحت تو یہ ہے کہ تم اردو زبان کو اپناؤ اور اس کو اتنا رائج کرو کہ یہ تمہاری مادری زبان بن جائے اور تمہار الہجہ اردو دانوں کا سا ہو جائے۔دوسری چیز جس کے متعلق میں آپ لوگوں کو نصیحت کرنا چاہتا ہوں وہ یہ قرآن سیکھیں اور عمل کریں ہے کہ علم کے بغیر کبھی سی عمل پیدا نہیں ہو سکتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عمل کے بغیر بھی انسان حقیقی زندگی حاصل نہیں کر سکتا۔عالم بے عمل کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس کی پیٹھ پر کتابیں لدی ہوئی ہوں لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اگر علم نہ ہو اور پھر انسان کوئی عمل کرے تو وہ غلط قسم کا ہو گا اور اس کی مثال اس ریچھ کی سی ہو گی جس سے کسی آدمی کی دوستی ہو گئی اور وہ اسے مکھیاں اڑانے کے لئے اپنی ماں کے پاس بٹھا گیا۔وہ مکھیوں کو اس کی ماں کے منہ سے اڑا تا لیکن وہ پھر آ بیٹھتیں۔اس نے خیال کیا کہ جو مکھی اڑتی نہیں اسے مار ڈالنا چاہئے۔چنانچہ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور مکھی پر دے مارا۔وہ مکھی تو شاید مری یا نہ مری لیکن ماں مرگئی۔اسی طرح بے علم آدمی ایسی غلطیاں کر جاتا ہے کہ ان کی اصلاح اور ازالہ مشکل ہوتا ہے۔میں نوجوانوں کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ان میں خصوصیت کے ساتھ کوئی ایسا آدمی نہیں ہونا چاہئے جو قرآن کریم کا ترجمہ نہ جانتا ہو۔جس طرح ہر شخص وکیل تو نہیں بن سکتا لیکن ملک میں صحیح طور پر امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک ہر شخص رائج الوقت قانون سے ایک حد تک واقف نہ ہو۔ہر شخص چوہدری نذیر احمد یا سلیم نہیں بن جا تا مگر کچھ نہ کچھ قانون کا علم اسے ہوتا ہے۔مثلا وہ جانتا ہے کہ اگر وہ چوری کرے گا تو اسے سزا ملے گی۔قانونی باریکیاں وہ نہیں جانتا۔ان کے لئے اسے وکیلوں کے پاس جانا پڑتا ہے۔اسی طرح قرآن کریم کی باریکیوں کو تم بے شک علماء پر چھوڑ دو لیکن معمولی احکام تو ہر شخص کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور ان کا جاننا اس کا فرض ہے۔میرے نزدیک جو شخص قرآن کریم کا ترجمہ نہیں جانتا دہ حقیقی مسلمان نہیں۔جب اسے پتہ ہی نہیں کہ