مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 45
45 تھیں۔ایک تو دو کھڑکیوں والی جگہ میں جہاں آج کل پریدار کھڑا ہوتا ہے اس حصہ میں امام کھڑا ہو ا کر تا تھا اور پھر جہاں اب ستون ہے وہاں ایک اور دیوار تھی اور ایک دروازہ تھا۔اس حصہ میں صرف دو قطار میں نمازیوں کی کھڑی ہو سکتی تھیں اور فی قطار غالبا پانچ سات آدمی کھڑے ہو سکتے تھے۔اس حصہ میں اس وقت کبھی ایک قطار نمازیوں کی ہوتی اور کبھی دو ہوتی تھیں۔مجھے یاد ہے کہ جب اس حصہ بیت سے نمازی بڑھے اور آخری یعنی تیسرے حصہ میں نمازی ہوئے تو ہماری حیرت کی کوئی حد نہ رہی تھی۔گویا جب پندرھواں یا سولہواں نمازی آیا تو ہم حیران ہو کر کہنے لگے کہ اب تو بہت لوگ نماز میں آتے ہیں۔تم نے غالبا غور کر کے وہ جگہ نہیں دیکھی ہو گی۔مگر وہ ابھی تک موجود ہے۔جاؤ اور دیکھو۔کا طریق تھا کہ وہ پرانی باتوں کو کبھی کبھی عملی رنگ میں قائم کر کے بھی دیکھا کرتے تھے۔اس لئے تم بھی جا کر دیکھو اس حصہ کو الگ کر دو جہاں امام کھڑا ہو تا ہے اور پھر وہاں فرضی دیوار میں قائم کرو اور پھر جو باقی جگہ بچے اس میں جو سطریں ہوں گی ان کا تصور کرو۔اور اس میں تیسری سطر قائم ہونے پر جو ہمیں حیرت ہوئی کہ کتنی بڑی کامیابی ہے اس کا قیاس کرو۔اور پھر سوچو کہ خدا تعالیٰ کے فضل جب نازل ہوں تو کیا سے کیا کر دیتے ہیں۔مجھے یاد ہے ہمارا ایک کچا کوٹھا ہو تا تھا اور بچپن میں کبھی کھیلنے کے لئے ہم اس پر چڑھ جایا کرتے تھے۔اس پر چڑھنے کے لئے جن سیڑھیوں پر ہمیں چڑھنا پڑتا تھا وہ مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کے مکان کے پاس سے پڑھتی تھیں۔اس وقت ہماری تائی صاحبہ جو بعد میں آکر احمدی بھی ہو گئیں۔مجھ دیکھ کر کہا کرتی تھیں کہ ” جیسو جیا کاں او ہو جئی کو کو " میں بوجہ اس کے کہ میری والدہ ہندو ستانی ہیں اور اس وجہ سے بھی کہ بچپن میں زیادہ علم نہیں ہو تا۔اس پنجابی فقرہ کے معنی نہیں سمجھ سکتا تھا۔چنانچہ ایک دفعہ میں نے اپنی والدہ صاحبہ سے اس کے متعلق پوچھا کہ اس کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اس کے سننے یہ ہیں کہ جیسا کوا ہو تا ہے ویسے ہی اس کے بچے ہوتے ہیں۔کوے سے مراد (نعوذ باللہ تمہارے ابا میں اور کو کو سے مراد تم ہو۔مگر پھر میں نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے کہ وہی تائی صاحبہ اگر میں کبھی ان کے ہاں جاتا تو بہت عزت سے پیش آتیں۔میرے لئے گدا بچھاتیں اور احترام سے بٹھاتیں اور ادب سے متوجہ ہو تیں اور اگر میں کہتا کہ آپ کمزور ہیں۔ضعیف ہیں ، ہمیں نہیں یا کوئی تکلف نہ کریں تو وہ کہتیں آپ تو میرے پیر ہیں۔گویا وہ زمانہ بھی دیکھا جب میں کو کو تھا اور وہ بھی جب میں پیر بنا اور ان ساری چیزوں کو دیکھ کر تم سمجھ سکتے ہو کہ خدا تعالیٰ جب دنیا کو بدلنا چاہتا ہے تو کس طرح بدل دیتا ہے۔پس ان انسانوں کو دیکھو اور ان سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنے اندر وہ تبدیلی پیدا خدا تعالیٰ کے محبوب بن جاؤ کرو کہ جو تمہیں خدا تعالیٰ کا محبوب بنا دے اور تم حزب اللہ میں داخل ہو جاؤ۔مجھے افسوس ہے کہ تمہید میں ہی زیادہ وقت صرف ہو گیا اور ابھی گھنٹی نے بتایا ہے کہ ساڑھے تین بج چکے ہیں۔پس چونکہ تھوڑی دیر میں ہی عصر کا وقت ہو جائے گا۔اس لئے میں مضمون کو ختم نہیں کر سکتا۔اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو اگلے جمعہ میں اسے ختم کروں گا۔لیکن اس وقت پھر اختصار سے جماعت کے نوجوانوں کو خواہ وہ قادیان کے ہوں یا باہر کے۔توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے دوں میں ایک عزم اور ارادہ لے کر کھڑے ہوں کہ ہم نے