مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 529 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 529

529 بڑھ کر مضمون لکھنا چاہئے تھا۔پس میرے نزدیک کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ ہم اپنے کاموں میں اولوالعزمی قائم نہ رکھیں۔اسلام میں کوئی پریسٹ ہڈیا مولویت نہیں ہے بلکہ خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لئے ہر ایک کے لئے رستہ کھلا ہے۔پس ہمیں نوجوانوں میں یہ احساس پیدا کرتے رہنا چاہئے کہ وہ کبھی بھی یہ نہ سمجھیں کہ وہ پہلوں سے بڑھ نہیں سکتے۔پس اپنے اندر حقیقی روحانیت اور خدا تعالیٰ کا سچا عشق پیدا کرو اور اس بارہ میں کسی بڑی سے بڑی مشکل اور مصیبت کی بھی پرواہ نہ کرو۔جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک جگہ محمد رسول اللہ علی یا ہم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے رسول ! تو ان لوگوں سے کہہ دے کہ اگر خدا تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہو تا تو تم پیچھے رہ جاتے اور میں اس پر ایمان لے آتا مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا نہیں۔تم نے صرف ایک جھوٹا بیٹا بنالیا ہے۔اگر مسیح فی الواقعہ خدا تعالٰی کے بیٹے ہوتے تو سب سے پہلے میں ان پر ایمان لاتا۔حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کے متعلق لکھا ہے کہ وہ ایک دفعہ کہیں جارہے تھے۔آپ کے ساتھ آپ کے ایک بڑے مخلص مرید بھی تھے جن کو آپ کا اپنے بعد خلیفہ بنانے کا ارادہ تھا اور ان کے علاوہ آپ کے ایک اور بھی مرید تھے۔رستہ میں آپ کو ایک خوبصورت بچہ نظر آیا۔آپ کھڑے ہو گئے اور بچہ کو بوسہ دیا۔آپ کو بوسہ دیتے دیکھ کر آپ کی نقل میں آپ کے مریدوں نے بھی اس بچہ کو بوسہ دینا شروع کر دیا۔مگر وہ بڑے مرید جن کو آپ کا اپنے بعد خلیفہ بنانے کا ارادہ تھا وہ ایک طرف کھڑے رہے اور انہوں نے بوسہ دینے میں آپ کی اتباع نہ کی۔جب آگے چلے تو دوسرے مریدوں نے آپس میں چہ مگوئیاں شروع کر دیں کہ یہ بڑا مخلص بنا پھرتا ہے۔حضرت نظام الدین صاحب اولیاء نے اس بچہ کو بوسہ دیا مگر اس نے آپ کی اتباع نہیں کی۔وہ چپ رہے اور کوئی جواب نہ دیا۔کچھ دور آگے گئے تو ایک بھڑ بھو نجادا نے بھون رہا تھا۔اس نے آگ میں پتے ڈالے تو ایک شعلہ اونچا ہو ا۔حضرت نظام الدین صاحب اولیاء آگے بڑھے اور آگ میں منہ ڈال کر اسے چوم لیا۔اس پر وہ مرید بھی آگے بڑھا اور اس نے بھی آگ کو چوم لیا اور باقی مریدوں کو اشارہ کیا کہ وہ بھی آگ کو چومیں۔مگر وہ سب پیچھے ہٹ گئے اور ان میں سے کوئی بھی آگے نہ بڑھا۔پہلے تو ایک بچہ ملا اور وہ خوبصورت لگا۔جب حضرت نظام الدین نے اسے بوسہ دیا تو آپ کی اتباع میں انہوں نے بھی اسے چوم لیا مگر یہاں تو داڑھی اور بالوں کے جل جانے کا خطرہ تھا۔اس لئے وہ یہاں آپ کی نقل کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔حالانکہ اگر سچا عشق ہو تو انسان ہر قسم کے خطرات میں اپنے آپ کو جھونک دیتا ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ا ا ا ا ا ا ا ا م سے فرمایا کہ تو ان لوگوں سے کہہ دے کہ اگر خدا تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہو تو مجھے کیا انکار ہو سکتا ہے ، میں اس پر ایمان لے آتا۔میں تو خدا تعالیٰ کا بیٹا ہونے کا اس لئے انکار کرتا ہوں کہ اس کا کوئی بیٹا ہو ہی نہیں سکتا۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہر بات کی کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے اور اس غرض کو پورا کرنے کے لئے ہمیں پوری کوشش کرنی چاہئے۔یہاں ہر دفعہ ایسا ہوا ہے کہ جلسوں کا پروگرام اس طرح بنایا جاتا ہے کہ اصل