مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 523

523 غرض ہم اسلام کی باتوں کو دوسروں سے نہیں منوا سکتے جب تک ہم ان پر عمل کرنے میں رات دن ایک نہ کر دیں اور دعائیں کر کے ہمارے ناک نہ رگڑے جائیں اور اپنی کوششوں کو بڑھا نہ دیں۔جب تک ہم دوسروں کی باتوں کو برداشت نہیں کر سکتے اور اپنے اندر ایک قسم کی دیوانگی پیدا نہیں کر لیتے اس وقت تک ہم کوئی عظیم الشان تغیر پیدا نہیں کر سکتے۔آج تک کوئی بڑا کام نہیں ہوا جس کے کرنے والے کو لوگوں نے پاگل نہ کہا ہو۔جب محمد رسول اللہ صلی ال یا ہم نے دعوی کیا اور ایک بڑے مقصد کو لے کر دنیا کے سامنے کھڑے ہو گئے تو کیا کوئی یہ خیال بھی کر سکتا تھا کہ آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔دنیا کے سب لوگ کہتے تھے کہ یہ کام نہیں ہو سکتا۔یہ تو عقل کے خلاف ہے۔بھلا اتنا بڑا تغیر دنیا میں کیسے پیدا ہو سکتا ہے۔ان کے نزدیک آپ نے قوم کی ساری رسوم کو چھوڑ کر ایک نیا طریق اختیار کر لیا تھا۔ان کے اندر یہ احساس تھا کہ یہ کام نہیں ہو سکتا اس لئے وہ آپ کو پاگل کہتے تھے لیکن آپ صرف منہ سے ہی نہیں کہتے تھے بلکہ جو کہتے تھے اس کے لئے پوری جدوجہد بھی کرتے تھے۔جب ان کے کہنے کے بعد بھی آپ رات اور دن جد وجہد میں لگے رہے تو وہ کہتے یہ شخص پکا پاگل ہے مگر آپ برابر اس کے لئے اپنی زندگی کو لگاتے چلے گئے کیونکہ آپ کو یہ یقین تھا کہ یہ کام آپ کر کے چھوڑیں گے اور اس میں ضرور کامیاب ہوں گے۔توحید کے مسئلہ کو لے لو جس کو آج کل تم بڑے فخر کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہو اور تمہاری گردنیں ان کے سامنے بلند رہتی ہیں۔تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ فطرتی مسئلہ ہے حالانکہ اس مسئلہ کو بھی وہ مجنونانہ خیال سمجھتے تھے۔قرآن میں آتا ہے اجعل الله إلها واحدا (ص:۶) وہ لوگ یہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ایک خدا ہو سکتا ہے۔انکے نزدیک تو کئی خدا تھے۔ان کا یہ خیال تھا کہ آپ نے سارے خداؤں کو کوٹ کر ایک خدا بنالیا ہے۔ان کے ذہنوں میں ایک خدا کا مسئلہ آتا ہی نہیں تھا۔بھیرہ کے ایک طبیب تھے جن کا نام الہ دین تھا۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پہلی کتب کو پڑھا ہوا تھا۔وہ آپ کے بہت معتقد تھے لیکن احمدی نہیں ہوئے تھے۔ان کے پاس ان کا ایک مریض احمدی چلا گیا اور اس نے تبلیغ شروع کر دی۔آپ کے دعوئی کا انہیں علم تھا۔وہ اپنے آپ کو بہت بڑا عالم سمجھتے تھے اور حضرت خلیفہ اول جن کے علم و فضل کا ہر ایک اقرار کرتا ہے وہ ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ نورالدین کیا جانتا ہے۔وہ تو صرف ابتدائی باتیں جانتا ہے۔جب اس دوست نے انہیں تبلیغ کی تو کہنے لگے میاں جانے بھی دو کیا مرزا صاحب کی کتابوں کو تم مجھ سے زیادہ سمجھتے ہو۔میں آپ کی کتابوں کو جتنا سمجھتا ہوں تم نہیں سمجھتے۔میں نے آپ کی کتابوں کا گہرا مطالعہ کیا ہوا ہے۔آپ بڑے عالم ہیں۔کیا وہ اتنی بڑی بے وقوفی کی بات کہہ سکتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں۔قرآن میں صاف لکھا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں۔بھلا آپ جیسا عالم یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔اصل میں تم نے کتابوں کو غور سے پڑھا نہیں۔مجھے اصل بات کا پتہ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جب آپ نے براہین احمدیہ لکھی تو اس میں اسلام کی صداقت کو اتنے زبر دست دلائل سے ثابت کیا کہ آپ سے قبل تیرہ سو سال تک کسی عالم سے ایسا نہیں ہو سکا تھا اور وہ ایسے دلائل تھے کہ انکے سامنے عیسائی اور ہندو ٹھر نہیں سکتے تھے مگر