مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 484

484 سے بھوکے رہ جائیں لیکن صحابہ میں تو اکثر ایسے تھے جن کو پیٹ بھر کر روٹی نہیں ملتی تھی مگر اس کے باوجو دانہوں نے اپنے کام اتنی علو ہمتی سے سر انجام دیئے ہیں کہ دین تو دین رہا دنیا کے کاموں میں بھی وہ ایک نمونہ قائم کر گئے ہیں۔اس کی یہی وجہ تھی کہ ان کے اندر ایک غیر معمولی جذبہ پایا جاتا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ہم دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اور یہ تغیر ہمارے ہاتھوں سے پیدا ہو کر رہے گا۔یہ چیز تھی جو ان کی امنگوں کو قائم رکھتی تھی۔یہ چیز تھی جو ان کی ہمتوں کو بلند رکھتی تھی۔یہ چیز تھی جو ان کے عزم اور ان کے ارادہ کو کبھی متزلزل نہیں ہونے دیتی تھی اور یہ چیز تھی جو انہیں ترقی کے میدان میں ہمیشہ آگے ہی آگے اپنا قدم بڑھانے پر مجبور کرتی تھی۔تمہارے جسم پر کبھی پھٹا ہوا کپڑا ہو تو تم رونے لگ جاتے ہو اور کہتے ہو ہماری قسمت کیسی پھوٹ گئی کہ ہمیں پہننے کے لئے پھٹا ہوا کپڑا ملا۔مگر صحابہ کو پھٹا ہوا کپڑا بھی ملتا تو ان کا سر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جاتا۔ان کی زبان اس کے احسان کے ذکر سے تر ہو جاتی اور وہ کہتے کتنا اچھا کپڑا ہے جو ہمارے خدا نے ہمیں دیا۔انہیں اگر ایک سوکھی ہوئی روٹی کا ایک ٹکڑا بھی چار دن کے بعد ملتا تو خوشی سے ان کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو جاتی اور وہ کہتے الحمد للہ خدا نے ہمیں اپنے انعام سے نوازا۔یہی وجہ ہے کہ انہیں جو فائدہ سوکھی روٹی کے ٹکڑوں نے دیا وہ تمہیں پلاؤ اور قورمہ بھی نہیں دیتے۔آج جسے پلاؤ ملتا ہے وہ پلاؤ تو کھاتا جاتا ہے مگر ساتھ ہی اس حسرت سے اس کا دل کباب ہو رہا ہوتا ہے کہ پلاؤ کے ساتھ زردہ نہیں۔جسے پلاؤ اور زردہ میسر آئے وہ پلاؤ اور زردہ کھاتے ہوئے خون کے آنسو بہا رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے پلاؤ اور زردے کو میں کیا کروں، فرنی تو اس کے ساتھ نہیں ہے۔جسے دال ملتی ہے وہ گوشت کے لئے روتا ہے۔جسے گوشت ملتا ہے وہ چاولوں کے لئے تڑپتا ہے۔جسے کھانے کے لئے چار روٹیاں ملتی ہیں وہ کہتا ہے چار روٹیوں سے کیا بنتا ہے ، ملتیں تو چھ ملتیں۔جسے دو ملتی ہیں وہ ایک ایک لقمہ زہر مار کر رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے دو روٹیاں بھی کوئی روٹیاں ہیں، ملتی تو چار ملتیں اور جس کو ایک روٹی ملتی ہے وہ روٹی بھی کھاتا جاتا ہے مگر ساتھ ہی اس کا خون کھول رہا ہوتا ہے کہ میں کتنی بڑی مصیبت میں گرفتار ہو گیا، مجھے کھانے کے لئے صرف ایک روٹی مل رہی ہے۔وہاں روکھی سوکھی روٹی کا ٹکڑا بھی ملتا تھا تو صحابہ کہتے کہ ہم اس ٹکڑے کے بھی مستحق نہ تھے۔یہ خدا کا فضل ہے کہ اس نے یہ ٹکڑا ہمیں عنایت کیا۔نتیجہ یہ ہو تا تھا کہ وہ روکھی روٹی کا ٹکڑا ان کے انگ لگ جاتا تھا۔ان کے اندر علو ہمتی پیدا کر تا تھا اور ان کے جذ بہ شکر گزاری کو اور بھی بڑھا دیتا تھا۔فتح مکہ کے دن جس دن عرب کا مقام امارت ختم ہوا اور رسول کریم ملی ای دل والے دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے مکہ کے بڑے بڑے صنادید جن کی ساری زندگی اسلام کی دشمنی میں گزری تھی گردن جھکائے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے ان کے سامنے یہ اعلان کیا کہ جاؤ میں تمہیں کچھ نہیں کہتا۔تم سب میری طرف سے آزاد ہو۔یہ اعلان کرنے کے بعد آپ اپنی پھوپھی کے پاس گئے اور فرمایا پھو پھی کچھ کھانے کو ہے۔پھوپھی نے کہا میرے عزیز بچے! اگر میرے پاس کچھ کھانے کو ہوتا تو میں تمہیں خود ہی بلا کر کیوں نہ کھلا دیتی۔