مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 436

436 اصولی اخلاق اور فروعی اخلاق کی مثال بیج اور درخت کی سی ہے۔بیج کتنا چھوٹا ہوتا ہے مگر اس کا نتیجہ کتنے بڑے درخت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔اس بیج کے متعلق انسان وہم و گمان بھی نہیں کر سکتا کہ اس سے اتنا بڑا درخت پیدا ہو سکتا ہے اور وہ درخت اس قسم کے پھل دے سکتا ہے مگر اس چھوٹے سے بیج سے بڑے بڑے درخت پیدا ہوتے ہیں جن کے نیچے لوگ بیٹھتے اور آرام کرتے ہیں۔ان کے پھل کھاتے ہیں اور دوسرے فوائد ان سے حاصل کرتے ہیں۔تم بڑ کے درخت کو ہی دیکھ لو۔اس کا بیج کتنا چھوٹا ہو تا ہے مگر جو درخت اس کے بیج سے پیدا ہوتا ہے ، وہ اتنا بڑا ہوتا ہے کہ چار چار سو پانچ پانچ سو تک آدمی اس کے نیچے آرام کر سکتے ہیں۔تو بیج کو دیکھ کر انسان یہ قیاس نہیں کر سکتا کہ اس سے اتنا بڑا درخت پیدا ہو سکتا ہے۔اسی طرح روحانی اخلاق سے بھی پورے طور پر فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا جب تک کہ ان کی فروع نہ نکلیں اور جس طرح فروع کا اندازہ انسان پہلے نہیں لگا سکتا اسی طرح فروعی اخلاق کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے کیونکہ فروعی اخلاق کی یہ حالت ہے کہ ان میں سے بعض اخلاق ایسے ہیں جو ایک وقت ایک شکل میں ہوتے ہیں اور دوسرے وقت دوسری شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ان کی ایک حالت نہیں رہتی۔ایک وقت وہ اچھے سمجھے جاتے ہیں اور دوسرے وقت میں وہی اخلاق برے سمجھے جاتے ہیں۔اس لئے فروعی اخلاق کی نگرانی مشکل ہوتی ہے۔ہاں صحبت صالح انسان کے اندر جلا پیدا کرتی ہے اور وہ فروعی اخلاق کے متعلق ان کی حالت کے لحاظ سے امتیاز کر سکتا ہے۔بہر حال پہلے اصولی اخلاق کا جاننا ضروری ہوتا ہے اور اخلاق کی نگرانی کے لئے میرے خیال میں ضروری ہے کہ خدام الاحمدیہ اپنے ہاں ایک سیکرٹری مقرر کرے جو اخلاق کی نگرانی بھی کرے اور ساتھ ہی تعلیم کی نگرانی کی طرف خاص توجہ دے۔جیسا کہ میں نے پرسوں کے خطبہ میں کہا ہے اخلاق کی ، نگرانی کے لئے تعلیم کی نگرانی ضروری ہے اور یہ اصل کام ہے۔جہاں جہاں خدام الاحمدیہ کی جماعتیں قائم ہیں وہاں ایک ایسا سیکرٹری مقرر کیا جائے جو دس سال سے میں سال کے لڑکوں کی فہرست تیار کرے کہ کتنے لڑکے اس جماعت میں ہیں۔ان میں سے کتنے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور کتنے لڑکے تعلیم حاصل نہیں کر رہے۔جو تعلیم حاصل نہیں کر رہے ، ان کے والدین کو توجہ دلائے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں۔اگر اس کے کہنے کے باوجود والدین تعلیم دلانے کے لئے تیار نہ ہوں تو وہ اپنے طور پر مرکز میں رپورٹ کرے کہ مرکز ان کی رپورٹ سے تمام حالات سے آگاہ ہو جائے۔(افسوس ہے تین ماہ میں اس بارہ میں کوئی بھی کارروائی نہیں ہوئی) بہر حال میں چاہتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ جہاں تک ہو سکے تعلیم کو عام کرنے کی کوشش کریں۔یہ ضروری نہیں کہ مدرسے ہی جاری کئے جائیں بلکہ اگر خدام الاحمدیہ ایسا کریں تو میرے نزدیک یہ طول عمل ہو گا۔میرا مطلب تعلیم کو عام کرنے سے یہ ہے کہ خدام الاحمد یہ نوجوانوں اور بچوں کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھیں۔جو بچے تعلیم کے قابل ہیں ان کو تعلیم میں لگایا جائے اور نوجوانوں کے اندر دینی تعلیم کا شوق پیدا کیا جائے اور وعظ و نصیحت کو کام میں لاتے ہوئے لوگوں کے اندر تعلیم سے دلچپسی پیدا کرنے کی کوشش کریں اور جہاں زیادہ مشکلات ہوں اس کے متعلق مرکز کو