مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 35
35 ہے میں چاہتا ہوں کہ اس کی شادی کا کوئی انتظام ہو جائے۔مولوی صاحب کے ساتھی جو اس وقت وہاں موجود تھے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے چار پائی پر لیٹے لیٹے ہی فرمایا کہ میرے ساتھ ہی شادی کر دو۔بعض لوگ اس واقعہ کو ایک ہنسانے والا واقعہ خیال کرتے ہیں مگر یہ واقعہ ایسا نہیں۔ہر شخص اپنی نیت کے مطابق پھل پاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ان کا دلی جوش ان کو یہ خیال بھی آنے نہیں دیتا تھا کہ وہ بوڑھے ہو چکے ہیں۔باوجودیکہ ان کا جسم جواب دے چکا تھا۔مگر ایمان کی وجہ سے دین کی خدمت کے لئے جو روحانی قوت وہ اپنے اندر محسوس کرتے تھے اس کے ماتحت ان کو کبھی یہ خیال بھی نہیں آسکتا تھا کہ وہ بوڑھے ہو گئے ہیں۔ایک صحابی کا واقعہ بھی اس سے مشابہ ہے۔حضرت انس بن مالک ہی ایک ایسے شخص ہیں جو رسول کریم مالی کے خادم کہلاتے ہیں۔ان کے سوا رسول کریم ملی اهل لالی نے کوئی خادم نہیں رکھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو حضرت انس کی والدہ انہیں آپ کے پاس لائیں اور عرض کیا کہ یا رسول الله ما ل ا ل لم مرد تو اور طرح خدمت کر کے ثواب حاصل کرتے ہیں۔مگر میں عورت ہوں اور تو کچھ نہیں کر سکتی۔یہ میرا لڑکا ہے جسے میں آپ کی خدمت کیلئے پیش کرتی ہوں۔یہ آپ کی خدمت کرے گا۔حضرت انس کی عمر اس وقت دس بارہ سال کی تھی۔اور وہ آنحضرت کی وفات تک آپ کی خدمت کرتے رہے۔ان کی وفات ایک سو دس یا ایک سو بیس سال کی عمر میں ہوئی۔یہ اختلاف اس وجہ سے ہے کہ اس زمانہ میں پیدائش کی تاریخیں عام طور پر یاد نہیں رکھی جاتی تھیں۔مسلمان چونکہ بہت بڑے مورخ تھے اس لئے وفات کی تاریخیں تو پوری طرح محفوظ ہو گئیں مگر پیدائش کی تاریخیں اسلام سے پہلے زمانہ سے تعلق رکھنے کی وجہ سے محفوظ نہیں ہو سکیں۔حضرت انس ” جب مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو بعض لوگ ان کی عیادت کے لئے گئے اور کہا کہ آپ حضرت رسول کریم ملی کے صحابی اور خادم ہیں۔ہمیں کوئی خدمت بتائیے۔انہوں نے جواب دیا کہ آپ لوگ میری کیا خدمت کر سکتے ہیں۔ہاں اگر ہو سکے تو میری شادی کرا دیں۔میں نے رسول کریم ملی ایل لیلی سے سنا ہے کہ جو شخص بغیر شادی کے فوت ہو تا ہے وہ بطال ہے۔بطال اسے کہتے ہیں جس کی عمر ضائع گئی۔حضرت انس کی بیوی ان سے کچھ ہی عرصہ پہلے فوت ہوئی تھیں۔اس لئے انہوں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ اگر میری شادی کرا دو تو میں بطال نہ کہلاؤں۔رسول کریم م کا مطلب تو یہ تھا کہ جو شخص اپنی زندگی بھر شادی نہیں کرتا اور اس کی اولاد نہیں ہوتی وہ بطال ہے۔کیونکہ اسلام نے رہبانیت کو ناجائز رکھا ہے۔مگر حضرت انس نے رسول کریم میں اللہ کی لفظی بات کو پورا کرنے کے لئے یہ بھی پسند نہ کیا کہ چند دن کی عمر بھی بطال گزاریں حالانکہ اس وقت وہ عمر کی اس حد سے گذر چکے تھے جس میں بچے پیدا ہو سکتے ہیں۔یہ بھی دراصل ان کے دلی جوش کا نتیجہ تھا۔دین کی خدمت کا جو احساس ان کے دل میں تھا۔اس کے ماتحت اگر چہ جسم جواب دے چکا تھا مگر کام کی امنگ روح میں موجود تھی اور اس کے ماتحت وہ بعض اوقات یہ بھول جاتے تھے کہ ہم بوڑھے ہو چکے ہیں یا ہمارے جسم اب جواب دے چکے ہیں۔