مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 428
428 والے آدمیوں کی بہتات ہے اور اعلیٰ قابلیت رکھنے والوں کی بہتات ہے ، نصیحت اور وعظ کرنے والوں کی بہتات ہے ، جماعت کی کثرت کی وجہ سے ہر قابلیت کا آدمی مل سکتا ہے لیکن ان حالات کو بیرونی جماعتوں پر چسپاں نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہر جگہ نہ اتنی قابلیتوں کے آدمی مل سکتے ہیں نہ اتنے علم دوست ہیں ، نہ وہاں اتنے وعظ و نصیحت کرنے والے میسر آسکتے ہیں۔نہ وہاں جماعت کی اتنی کثرت ہے کہ خدام الاحمدیہ کے نظام کو جماعتی طور پر دباؤ ڈال کر قائم کیا جا سکتا ہو بلکہ بعض مقامات میں ایک احمدی ہے۔بعض میں دو بعض میں تین ، بعض میں چار یا اس سے کم و بیش احمدی ہیں اور بعض مقامات ایسے ہیں جہاں کوئی احمدی بھی تعلیم یافتہ نہیں۔بعض جگہوں پر قابل آدمی مل سکتے ہیں ، بعض جگہوں پر نہیں مل سکتے اور بعض جگہیں ایسی ہیں جہاں قابل آدمی تو موجود ہیں لیکن ان کی قابلیت چھپی ہوئی ہے۔جب تک ان کو ابھارا نہ جائے اس وقت تک وہ قابلیتیں ہمارے کام نہیں آسکتیں۔پس ضروری ہے کہ انسپکٹر مقرر کئے جائیں جو باہر کی جماعتوں کی پورے طور پر نگرانی کریں اور جو قانون مرکز میں جاری کئے جائیں ، ان کو رواج دینے کی کوشش کریں۔اب میں جن امور کو بیان کرنا چاہتا ہوں، ان میں سے بعض قادیان کے خدام سے متعلق ہیں اور و قار عمل بعض باہر سے آنے والے خدام کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔آئندہ پروگرام میں ان امور کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔قادیان میں ایک ایسی چیز ہے جو ہمیشہ باہر سے آنے والوں پر برا اثر ڈالتی ہے اور وہ قادیان کی عمومی صفائی قادیان کی عدم صفائی اور محلوں کا گند ہے۔اگر ذرا سی بارش ہو جائے تو چلنا پھرنا مشکل ہو جاتا ہے اور ہر گھر کے آگے پاخانہ اور ردی چیزوں کے ڈھیر اس طرح پڑے ہوتے ہیں گویا ہماری گلیاں گاؤں کی گلیاں نہیں بلکہ پاخانہ کے پھینکنے کی جگہیں ہیں۔اس کا نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ جو لوگ باہر سے آتے ہیں ان پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ تقریبا پچیس یا چھبیس سال کا عرصہ ہوا۔اس وقت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب ابھی زندہ تھے کہ ڈاکٹر ز ویمر جو ساری اسلامی دنیا میں شہرت رکھتے ہیں اور جتنے اسلامی دنیا میں کام کرنے والے عیسائی مشنری ہیں ، ان میں سب سے زیادہ شہرت رکھنے والے ہیں۔یہ امریکہ کے رہنے والے ہیں۔شکاگو سے چلے اور انہوں نے سارے اسلامی ممالک کا دورہ کیا۔ہندوستان آنے پر انہوں نے گورداسپور کے پادری کو لکھا کہ میں قادیان دیکھنا چاہتا ہوں۔اس وقت گورداسپور میں پادری گارڈن صاحب ہوتے تھے۔وہ بہت اعلیٰ درجہ کی پنجابی بولتے تھے ، اتنی اچھی کہ کم سے کم میں تو کہہ سکتا ہوں کہ میں ان کے پاسنگ بھی نہیں بول سکتا۔پادری گارڈن صاحب کے ساتھ وہ قادیان آئے اور مجھ سے ملنے کی خواہش کی۔جب تک میں ان سے نہ مل سکا اس وقت تک وہ قادیان اور اس کے دفاتر دیکھتے رہے، اس دوران میں جب کہ وہ قادیان کو دیکھ رہے تھے ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب کو انہوں نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے شوق تھا کہ میں دیکھوں کہ اسلام شہروں کے متعلق کس قسم کا انتظام کرتا ہے چنانچہ آج میری خواہش پوری ہو گئی ہے اور میں نے قادیان آگر شہروں کے متعلق