مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 420
420 وہ ان کے پاس مانگنے ہی کیوں گئے تھے اور اگر انہوں نے کچھ دینے سے انکار کیا تھا تو کیوں انہوں نے اس انکار کو خوشی سے برداشت نہ کر لیا اور سارے اخراجات کو اپنے اوپر نہ لے لیا۔میں تو سمجھتا ہوں اگر وہ نوجوانوں سے اپنی ضروریات کے لئے ہزار ہا روپیہ بھی جمع کرنا چاہیں تو وہ آسانی سے کر سکتے ہیں۔اس وقت ان کا سارے سال کا خرچ چار پانچ ہزار روپیہ سے زیادہ نہیں ہو تا۔کیا اتنی معمولی رقم بھی وہ جمع نہیں کر سکتے ؟ میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر وہ صحیح طور پر کام کریں تو چو میں پچیس ہزار روپیہ سالانہ سہولت جمع کر سکتے ہیں لیکن اگر ان پر کوئی مشکل آئی بھی تھی تو انہیں ایسے لوگوں کو مخاطب کرنا چاہئے جو بشاشت اور خوش دلی کے ساتھ کام کرتے اور بالفرض روپیہ کی کمی کی وجہ سے ان کے کام بالکل ہی رک جاتے تب بھی ان کے لئے گلے اور شکوے کی کوئی بات نہیں تھی۔بچے مصائب اور مشکلات کے وقت ہمیشہ اپنے ماں جماعت کے روحانی باپ کی افراد جماعت سے شفقت باپ کے پاس جاتے ہیں۔اگر خدام الاحمدیہ جماعت کی حقیقت کو سمجھتے تو اگر ان کے جسمانی ماں باپ نے یہ کہہ دیا تھا کہ ہمیں اپنے بچوں کی ضرورت کی کوئی پروا نہیں ، ہم ان کی ضروریات کے لئے کوئی چندہ نہیں دے سکتے تو خدا نے اس جماعت کو یتیم نہیں بنایا تھا۔تو وہ اپنے روحانی باپ کے پاس جاتے اور کہتے کہ ہمارے پاس روپیہ نہیں رہا اور میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر وہ اپنے روحانی باپ کے پاس جاتے تو اس کی طرف سے انہیں وہ جواب نہ ملتا جو جسمانی ماں باپ سے ملا۔وہ محبت اور پیار کے ساتھ تمہاری ضرورتوں کو پورا کرتا اور تمہیں یہ شکوہ پیدا نہ ہو تاکہ ہم اپنے کاموں کو کس طرح چلائیں یا اپنی ضروریات کس طرح پوری کریں۔مجھے جہاں اس کام کی خوشی ہوتی ہے کہ خدام عمدہ سکیمیں تیار کرتے رہتے ہیں، وہاں میں نے بار بار اس امر پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ خدام الاحمدیہ کو جتنا مشورہ مجھ سے ملنا چاہئے اتنا مشورہ وہ لیتے نہیں۔اگر لیتے تو زیادہ اچھا کام کر سکتے اور زیادہ عمدگی سے اپنی ضرورتوں کو پورا کر سکتے۔پس میں ایک دفعہ پھر جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں کیونکہ بعض دفعہ باہر بھی ایسے جھگڑے پیدا ہوئے ہیں۔اس لئے میں خدام کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ وہ صرف خدام الاحمدیہ کے ممبر نہیں بلکہ مقامی جماعت کے بھی ممبر ہیں۔خدام الاحمدیہ کا کام لوکل انجمن کے کام کے علاوہ زائد طور پر ان کے سپرد کیا گیا ہے۔پس قومی انجمن کے عہدیدار ہوں خواہ وہ مقامی انجمن کے احکام کی پیروی خدام کے لئے ضروری ہے سیکرٹری ہوں یا پریذیڈنٹ ان کے احکام کی پیروی ہر خادم کے لئے ضروری ہے البتہ کوئی سیکرٹری یا کوئی پریذیڈنٹ جماعتی طور پر خدام الاحمدیہ کو کسی کام کا حکم دینے کا مجاز نہیں۔وہ فردا فردا نہیں کہہ سکتا ہے کہ آؤ اور فلاں کام کرو مگر لو کل انجمن کا پریذیڈنٹ یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ خدام کو بحثیت خدام یہ کہے کہ آؤ اور فلاں کام کرو اس کو چاہئے کہ اگر خدام خدام کے زعماء وغیرہ لوکل انجمن کے امیر یا پریزیڈنٹ سے تعاون کریں الاحمدیہ سے کوئی کام لینا چاہتا ہے تو ان کے زعیم کو مخاطب کرے اور کہے کہ مجھے فلاں کام کے لئے خدام کی مدد کی ضرورت ہے۔اور زعیم کا فرض ہے کہ وہ لوکل انجمن کے پریذیڈنٹ کے احکام کو پورا کرنے کی کوشش کرے اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو خدام الاحمدیہ کو جماعت میں تفرقہ اور شقاق کا موجب بناتا ہے۔اسی طرح انصار اللہ کو تنظیم کے لحاظ سے علیحدہ ہیں مگر بہر حال وہ لوکل انجمن کا