مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 414
414 میں سے کوئی بھی باقی ہے۔حضرت مسیح نے کہا ہے کہ اگر تم میں ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہو گا اور تم پہاڑوں کو حکم دو گے کہ وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جائیں تو تمہارے حکم سے پہاڑ بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جائیں گے۔مگر کیا ان معجزات میں سے کچھ بھی اب بھی باقی ہے ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا انسان دنیا نے کہاں جنا اور کب جن سکتی ہے۔وہ جو تمام بنی نوع انسان کا مقصود اور مدعا تھا جس کی خاطر دنیا پیدا کی گئی جو کرامتیں آپ نے دکھا ئیں اور جو معجزات آپ سے ظاہر ہوئے۔صحابہ کرام کی قوت عملیہ ، تقوی اور اخلاص سے پتہ لگتا ہے کہ ان کا سکھانے والا کتنا بڑا انسان تھا۔مگر کیا وہ کرامتیں اور وہ نشانات مسلمانوں کے دلوں میں بھی گدگدی اور ان کے دفاع میں بھی ہیجان پیدا کرتے ہیں۔مگر ایک ذرہ بھر حرکت بھی تو ان میں نہیں پائی جاتی۔آخر یہ کیوں ہے؟ صرف اس لئے کہ بعد میں آنے والی نسلوں نے نشانات دکھانے والے سے قطع تعلق کر لیا ورنہ خدا تعالی میں نشان دکھانے کی قدرت تو پھر بھی موجود تھی اور نسل بھی موجود تھی مگر اس زنجیر کے ٹوٹ جانے اور تسلسل کے کٹ جانے کی وجہ سے وہ ان نشانات سے فائدہ حاصل نہ کر سکی۔پس جو پہلوں سے ہو ا ر ہی ہمارے ساتھ بھی ہو گا کیونکہ جو قانون پہلے تھا وہی اب بھی جاری ہے۔ابھی تو ہماری ابتدائی حالت ہے۔ابھی تو ہماری حالت ایسی ہی ہے جیسے کو نپل نکلتی ہے۔اگر اس حالت میں بھی ایثار کا مادہ کم ہو جائے ، قربانی کا مادہ کم ہو جائے۔عقل اور محنت سے کام کرنے کا مادہ کم ہو جائے اور دنیا داری بڑھ جائے تو یقینا ہمیں مستقبل کے آنے سے پہلے ہی موت کے لئے تیار ہو جانا چاہئے۔میں نے بار بار اس بات کی طرف جماعت کو توجہ دلائی ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ ابھی اس طرف پوری توجہ نہیں کی گئی۔ہمارے نوجوان جو آگے آرہے ہیں، ان کے اندر محنت کی عادت کم ہے کام سے جی چراتے ہیں ، ذکر الہی کا مادہ ان میں کم ہے۔میں نے خدام کو کئی دفعہ توجہ دلائی ہے کہ نوجوانوں کے اندر وہ یہ مادہ پیدا کریں۔مگر جہاں انہوں نے کچھ کام کیا ہے وہاں یہ حقیقی کام صفر کے برابر نظر آتا ہے۔مجھے سب سے زیادہ جماعت کے لوگوں سے کام پڑتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ حقیقی قربانی اور محنت نوجوانوں میں کم نظر آتی ہے اور تو اور یہ واقفین جو کہتے ہیں ہم نے زندگی قربان کر دی ہے ان واقفین میں سے بھی بعض غیر معقول دماغ کے ایسے ہیں جو کہتے ہیں ہم نے کام کی ڈائری اس لئے نہیں دی کہ وقت زیادہ ہو گیا تھا۔ایک طرف وہ قوم ہے جسے ہم کا فر اور بے دین کہتے ہیں جو چھ چھ سات سات دن بغیر آرام کئے متواتر میدان جنگ میں لڑتے ہیں اور دوسری طرف یہ نوجوان ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کی ہیں لیکن یہ کہتے ہیں کہ چونکہ چھ بجے تک کام کیا تھا اور وقت زیادہ ہو گیا تھا اس لئے ڈائری لکھنی مشکل تھی۔اگر ایک دن زیادہ پڑھنا پڑ جائے تو کہتے ہیں آج زیادہ پڑھنا پڑ گیا تھا اس لئے باقی کام نہیں کیا۔اگر ان کا یہ حال ہے جو واقفین ہیں اور جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام کے لئے ہم سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں تو غیر واقفین کا کیا حال ہو گا۔ان کے اندر بھی ابھی وہ بیداری اور وہ روح نظر نہیں آتی اور ان کے اندر بھی ابھی وہ ارادہ پیدا نہیں ہوا کہ ان میں سے کسی کے سپرد کوئی کام ہو تو وہ کہے کہ میں مرجاؤں گا مگر اپنے کام کو پورا کر کے چھوڑوں گا۔اگر ان کے اندر عام مومن کے ایمان کا کروڑاں حصہ بلکہ دس کروڑواں حصہ بھی ہو تا تو اگر سارا دن کام کرنے کے بعد بارہ گھنٹے اور لگتے تھے تو ان کے اندر یہ خیال پیدا نہیں ہونا چاہئے تھا کہ انہوں نے بارہ گھنٹے یا میں گھنٹے یا چوبیس گھنٹے کام کیا ہے۔اس لئے اب کام ختم کرنے سے پہلے آرام کرنا چاہئے۔زیادہ سے زیادہ یہی ہو تاکہ یہ کام کرتے کرتے مرجاتے اور کیا ہو تا؟ پاگل ہی ہیں جو کہا کرتے ہیں کہ مرنے سے بڑھ کر کوئی اور مصیبت ہوتی ہے۔کہتے ہیں کسی مجسٹریٹ نے ایک ملزم کو یہ سزا سنائی کہ اس کو پھانسی دے دی جائے تو وہ کہنے لگا کہ اس سے تو بہتر ہے کہ مجھے مروا ہی دیں۔تو اس قسم کی باتیں جاہلوں اور پاگلوں کی طرف منسوب کی جاسکتی ہیں مگر ایک واقف جو یہ کہہ کر آتا ہے کہ میں مرنے کے لئے آیا ہوں کیا اس کے منہ سے اس قسم