مشعل راہ (جلد اوّل) — Page iv
”میں نے متواتر جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہو سکتی نئی نسلیں جب تک اس دین اور ان اصول کی حامل نہ ہوں جن کو خدا تعالی کی طرف سے اس کے نبی اور مامور دنیا میں قائم کرتے ہیں اس وقت تک اس سلسلہ کی ترقی کی طرف کبھی بھی صحیح معنوں میں قدم نہیں اٹھ سکتا۔میں چاہتا ہوں کہ باہر کی جماعتیں بھی اپنی اپنی جگہ خدام الاحمدیہ نام کی مجالس قائم کریں خدام الاحمدیہ سے مراد یہی ہے کہ احمدیت کے خادم یہ نام انہیں یہ بات بھی ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا کہ وہ خادم ہیں مخدوم نہیں۔‘‘ (الفضل ۱۰ اپریل ۱۹۳۸ء) مجلس خدام الاحمدیہ کے کاموں کی برکت اور عظمت کا ذکر کرتے ہوئے ہماری راہنمائی یوں فرماتے ہیں: اس بات کو مد نظر رکھیں کہ ان کا تعداد پر بھروسہ نہ ہو بلکہ کام کرنا ان کا مقصود ہو اپنا عملی نمونہ بہتر سے بہتر دکھانا چاہیے۔۔تم سمجھو کہ صرف تم پر ہی اس کام کی ذمہ داری عائد ہے۔۔۔یہ وہم اپنے دلوں سے نکال دو کہ لوگ تمہارے ساتھ شامل نہیں ہوتے تم اگر نیک کاموں میں سرگرمی سے مشغول ہو جاؤ تو میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ لوگوں پر اس کا اثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ،سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع کر سکتا ہے، سورج مغرب کی بجائے مشرق میں ڈوب سکتا ہے مگر ممکن ہی نہیں کہ کسی نیک کام کو جاری کیا جائے اور وہ ضائع ہو جائے یہ ممکن ہی نہیں کہ تم نیک کام کرو اور خدا تمہیں قبولیت نہ دے اگر تم یہ کام کرو تو گو دنیا میں تمہارا نام کوئی جانے یا نہ جانے مگر خدا تمہارا نام جانے گا اور جس کا نام خدا جانتا ہو اس سے زیادہ مبارک اور خوش قسمت اور کوئی نہیں ہو سکتا۔“ (الفضل ۱۰ اپریل ۱۹۳۸ء) الغرض اس عظیم الشان اہمیت کی حامل تحریک مجلس خدام الاحمدیہ کے قیام کے اغراض اور اس کے مقاصد اور اس کے دور رس نتائج کی بابت حضرت مصلح موعود۔۔۔بانی مجلس خدام الاحمدیہ کے خطبات و تقاریر اور ارشادات کا مجموعہ مشعل راہ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ان خطبات کا مطالعہ نہ صرف مجلس کے کاموں کی عظمت اور تعارف میں راہنمائی کرے گا بلکہ تاریکی کے لمحات میں مشعل راہ ثابت ہوگا۔۔۔جیسا کہ حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے جب آپ صدر مجلس خدام الاحمدیہ ھے میں خطبات کے متعلق فرمایا تھا کہ " تاریکی کی گھڑیوں میں ان خطبات نے میری ڈھارس باندھی تھی اگر آپ کے دل میں کبھی