مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 388
388 کو ترقی دے کر مڈل کی تعلیم ان کے سپرد کی جائے اور بعض ماسٹر کچھ کہنے سے اس طرح ناواقف ہوتے ہیں کہ ان کا پرائمری میں رکھا جانا بھی انسپکٹروں کی ناواقفی یا جنبہ داری اور لحاظ کی بناء پر ہوتا ہے، ذاتی قابلیت کا اس میں دخل نہیں ہو تا۔تو کہنے کے طریق سے بھی انسان کی علمی زندگی میں بہت بڑا فرق پیدا ہوتا ہے۔وہ کتابیں مقرر ہوتی ہیں جن سے پرائمری کا امتحان پاس کیا جاتا ہے۔وہ کتابیں مقرر ہوتی ہیں جن سے مڈل اور انٹرنس اور ایف اے اور بی۔اے کے امتحانات پاس کئے جا سکتے ہیں لیکن پڑھانے والوں کے نقص یا ان کی خوبی کی وجہ سے بعض کے شاگر دبالکل نالائق رہتے ہیں اور بعض کے شاگر د اعلی درجہ کی قابلیت حاصل کر لیتے ہیں۔تو صرف اتنا ہی ضروری نہیں کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ ہم نے کچھ کہنا ہے بلکہ اس کے ساتھ ہی ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا ہے اور وہ طریق ہمارے فرائض کی ادائیگی میں مد ہو سکتے ہیں یا نہیں۔یہی دو چیزیں ہیں جن کو گذشتہ تقاریر میں مختلف پہلوؤں سے میں نے خدام الاحمدیہ کے سامنے رکھا اور یہی وہ چیز ہے جسے آج میں پھر خدام الاحمدیہ کے سامنے بیان کرنا چاہتا ہوں۔جس طرح پرانی شراب نئی بوتلوں میں پیش کی جاتی ہے تاکہ لوگوں کے لئے وہ دل کشی اور جاذبیت کا موجب ہو سکے اسی طرح آج میں اسی پرانی شراب کو جسے میں بارہا پیش کر چکا ہوں نئی یو تلوں میں تمہار نے سامنے رکھ رہا ہوں۔یہ امر ا چھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ جب تک خدام کے کارکن اور خدام الاحمدیہ کے تمام رکن اس بات کو مد نظر نہیں رکھیں گے کہ ہم نے کیا کہنا ہے اور پھر جو کچھ کہنا ہے اس کے متعلق تمام خدام کے ذہنوں میں یہ امر مستحضر نہیں ہو گا کہ اسے کس طرح کہنا ہے اس وقت تک اس انسٹی ٹیوٹ اور اس محکمہ یا ادارہ کی کامیابی قطعا غیر یقینی اور شکی ہو گی بلکہ بعض صورتوں میں یہ لاعلمی نهایت خطرناک نتائج پیدا کرنے کا موجب بن سکتی ہے۔اگر ہماری جماعت کے نوجوانوں کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ انہوں نے کیا کہنا ہے تو وہ قومی خیالات کو مٹانے والے ہوں گے اور اگر انہیں معلوم نہیں ہو گا کہ انہوں نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا ہے اور اس کے پیش کرنے کا صحیح طریق کیا ہے تب بھی جس مقصد کو لے کر وہ کھڑے ہوئے ہیں اس کو وہ قائم نہیں کر سکتے۔جس طرح چھت پر پڑے ہوئے پانی کو نکالنے کے لئے جب صحیح راستہ اختیار نہیں کیا جاتا تو وہ چھت میں سوراخ بنا کر مکان کو گرانے کا موجب بن جاتا ہے اسی طرح اگر نوجوانوں کو یہ معلوم نہ ہو کہ انہوں نے جو کچھ کہنا ہے وہ کس طرح کہنا ہے تو اس وقت تک بھی وہ قوم کی تصحیح خدمت کبھی سر انجام نہیں دے سکتے۔اسلام کی مکمل واقفیت نوجوانوں کے لئے اشد ضروری ہے پس یہ دونوں باتیں خدام الاحمدیہ کے لئے ضروری ہیں۔ان کے لئے ضروری ہے کہ انہیں اسلام کی مکمل واقفیت ہو اور ان کے لئے ضروری ہے کہ ان کو اسلام کے پیش کرنے کا صحیح طریق معلوم ہو کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ سب کا سب اسلام کا بیان ہو چکا ہے۔اگر خدام الاحمدیہ اسلام کے مفہوم اور اس کی