مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 29

29 دو۔تم نمازوں کی پابندی کی نوجوانوں میں عادت پیدا کرو۔تم تبلیغ کے لئے اوقات وقف کرو۔اس طرح باہر جو انجمنیں بنیں وہ بھی اسی رنگ میں کام کریں۔مگر موجودہ حالات میں جس طرح قادیان کی لجنہ کو میں نے باہر کی لجنات پر ایک برتری اور فوقیت دی ہوئی ہے۔اسی طرح میں اعلان کرتا ہوں کہ موجودہ ابتداء میں دو سال کے لئے خدام الاحمدیہ قائم ہوئی حالات میں عارضی طور پر سال دو سال کیلئے قادیان کی مجلس خدام الاحمدیہ کی بیرونی جماعتوں کی مجالس خدام الاحمدیہ شاخیں ہوں گی۔اور ان کا فرض ہو گا کہ اس انجمن کے ساتھ اپنی انجمنوں کا الحاق کریں اور اس انجمن کی اپنے آپ کو شاخ سمجھیں۔اسی طرح ہر جگہ ان کا یہ کام ہو گا کہ وہ سلسلہ کا لٹریچر پڑھیں۔نوجوانوں کو دینی اسباق دیں۔مثلا صبح کے وقت یا کسی اور وقت ایک دوسرے کو پڑھایا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں پڑھنے کے لئے کہا جائے اور پھر ان کا امتحان لیا جائے۔اسی طرح وہ خدمت خلق کے کام کریں اور خدمت خلق کے کام میں یہ ضروری نہیں کہ خدمت خلق مسلمان غریبوں اور مسکینوں اور بیواؤں کی خبر گیری کی جائے۔بلکہ اگر ایک ہندو یا سکھ یا عیسائی یا کسی اور مذہب کا پیرو کسی دکھ میں مبتلا ہے تو تمہارا فرض ہے کہ اس کے دکھ کو دور کرنے میں حصہ لو۔کہیں جلسے ہوں تو اپنے آپ کو خدمت کے لئے پیش کر دو میں نے اسی قسم کے مقاصد کے لئے احمد یہ نیشنل لیگ کو ر قائم کرنے کی اجازت دی تھی مگر مجھے افسوس ہے کہ اس کا بہت سا وقت لیفٹ اور رائٹ میں ہی خرچ ہو گیا۔وہ اپنے دائیں اور بائیں تو دیکھتے رہے۔مگر انہوں نے اپنے سامنے کبھی نہ دیکھا۔میں یہ نہیں کہتا کہ انہوں نے اس وقت تک کوئی مفید کام نہیں کیا۔انہوں نے بھی بعض مفید کام کئے ہیں۔خصوصاً جلسہ سالانہ کے موقعہ پر اور دوسرے اجتماعوں کے مواقع پر ان کا جو انتظام ہوتا ہے وہ بہت اچھا ہوتا ہے مگر قواعد کرنے کے علاوہ یا بعض جسمانی خدمات کے علاوہ اور جن کاموں کی میں ان سے امید رکھتا تھا وہ پورا نہیں ہوا۔میرے پاس لیگ کو ر کے قواعد کرانے والے افسروں نے اپنے کام کی فہرست پیش کی ہے کہ وہ فلاں فلاں کام کرتے رہے ہیں میں خطبہ میں ان کے کام کے اس حصہ کا خود ہی اعتراف کر چکا ہوں۔میرا اظہار خیال قواعد سکھانے والوں کے مطابق نہیں انہوں نے با قاعدگی سے کام کیا ہے اور اس کا مجھے اعتراف ہے۔جو شکوہ میں نے کیا ہے وہ لیگ کا ہے کہ دوسری اغراض جو علاوہ قواعد کے تھیں وہ انہوں نے باجود درجنوں دفعہ مجھ سے مشورہ لینے کے پوری نہیں کیں۔بہر حال میں امید کرتا ہوں کہ اگر نیشنل لیگ نے یہ مقصد پورا نہیں کیا۔تو اب مجلس خدام الاحمدیہ کے ارکان ہی اس مقصد کو پورا کر نیکی سلسلہ کے درد کو اپنا درد سمجھیں کوشش کریں گے اور اپنی زندگی کو کار آمد بنا ئیں گے اور سلسلہ کے درد کو اپنا درد سمجھیں گے۔لیکن جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں۔مجلس خدام الاحمدیہ میں جو بھی شامل ہو۔وہ یہ