مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 335
335 پس یہ حصے بھی ریلی میں شامل ہونے چاہئیں اور میرے نزدیک اگر ان پر زور دیا جائے تو یہ حصے بھی ایسے ہی دلچسپ بن جائیں گے جیسے کھیلیں دلچسپ ہوتی ہیں۔ایسا امتحان اگر توجہ کی جائے انسانی زندگی میں حرکت ، دلچسپی اور سرور پیدا کر دیتا ہے۔امریکہ میں ایک دفعہ حکومت نے جوئے کے خلاف قانون جاری کر دیا۔پولیس چلتی گاڑیوں میں گھس جاتی اور جب لوگوں کو جوا کھیلتے دیکھتی تو انہیں فور اگر فتار کر لیتی۔جب لوگوں نے دیکھا کہ ان کی دلچپسی کا یہ سامان جاتا رہا ہے تو انہوں نے اپنی دلچسپی کے لئے ایک اور راہ نکال لی۔چنانچہ ایک اخبار نے لکھا کہ آخر لوگوں نے اس قانون کا تو ڑ سوچ ہی لیا اور وہ اس طرح کہ جب انہوں نے دیکھا کہ پولیس جو او غیرہ نہیں کھیلنے دیتی تو ایک شخص نے ایک دن مصری کی ایک ڈلی نکال کر سامنے رکھ دی اور دو سرے کو کہا کہ وہ بھی مصری کی ایک ڈلی نکال کر سامنے رکھ دے اور پھر فیصلہ یہ کیا کہ جس کی ڈلی پر سب سے پہلے لکھی بیٹھے گی وہ جیت جائے گا اور اسے دوسرا شخص اتنے ڈالر انعام دے گا۔غرض اس طرح انہوں نے کھیل کھیلنا شروع کر دیا۔کسی کو احساس بھی نہیں ہو تا تھا کہ جوا کھیلا جا رہا ہے۔وہ یہ دیکھتا کہ مصری کی دو ڈلیاں ، پڑی ہوئی ہیں مگر در حقیقت ان مصری کی ڈلیوں سے ہی جوا کھیلا جا رہا ہو تا تھا مگر کسی کو پتہ نہیں لگتا تھا۔وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اگر کبھی شور پیدا ہوا تو ہم آرام سے مصری کی ڈلی اٹھائیں گے اور منہ میں ڈال لیں گے۔جوئے کا کوئی نشاں باقی نہیں رہے گا لیکن اس معمولی سی بات نے ان میں غیر معمولی دلچسپی پیدا کر دی کیونکہ اب خالی مصری کی ڈلی کا سوال نہیں رہا تھا بلکہ اس کے ساتھ جوئے کو لگا دیا تھا اور چانس اور عقل یہی دو مقابلے انسانی زندگی کو دلچسپ بناتے ہیں۔اب دیکھ لو وہی لکھی جو پہلے گزرتی تو کسی کو اس کا احساس بھی نہیں ہو تا تھا۔اس مقابلے کے بعد کیسی دلچسپ چیز بن گئی اور کس طرح ہر شخص بے تابی اور اضطراب کے ساتھ مکھی کا انتظار کرتا ہو گا۔کبھی کہتا ہو گا لو مکھی قریب آگئی۔لواب تو بیٹھنے ہی لگی اور کبھی افسوس کے ساتھ کہتا ہو گا مکھی آئی تو سہی مگر چلی گئی۔گویا یہ بھی ویسا ہی دلچسپ مقابلہ ہو گیا جیسے کشتیوں کا مقابلہ ہوتا ہے۔کیونکہ دلچپسی خون کے جوش سے پیدا ہوتی ہے اور جس مقابلہ میں انسانی خون کے اندر جوش پیدا ہو جائے یا مقابلہ میں انسان کو لذت آنی شروع ہو جاتی ہے۔پس بے شک یہ سوالات علمی مذاق کے ہیں مگر اس علمی مذاق کو بھی دلچسپ بنایا جا سکتا ہے۔صرف عقل اور سمجھ سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔جو لوگ عقل اور سمجھ سے کام لیتے ہیں وہ ہر کام میں دلچسپی پیدا کر لیتے ہیں اور جو عقل سے کام نہیں لیتے انہیں بڑے بڑے دلچسپ کاموں میں بھی کوئی لذت محسوس نہیں ہوتی۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن پر نماز کی ادائیگی بہت ہی گراں گزرتی ہے اور وہ بڑی مشکل سے نماز ادا کرتے ہیں لیکن دوسری طرف ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جنہیں نماز میں ایسی لذت آتی ہے کہ اس سے بڑھ کر انہیں اور کسی کام میں لذت نہیں آتی۔وہ نماز کو ایسا ہی سمجھتے ہیں جیسے کوئی تیر انداز نشانہ پر تیر لگانے کی کوشش کرتا رہا ہو۔جس طرح تیر انداز کا جب کوئی تیر نشانہ پر جا لگتا ہے تو وہ خوشی سے چلا اٹھتا ہے کہ لووہ تیر نشانہ پر جالگا۔اسی طرح نمازی اپنی ہر نماز پر خوش ہو تا ہے اور فرط مسرت سے بے اختیار کہہ اٹھتا ہے میرا تیرا اپنے نشانہ پر جالگا۔اسی طرح پر سبحان ربی العظیم جو اس کی