مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 301
301 اس امر کی تحقیق کریں اور جنہوں نے اس موقعہ پرستی دکھائی ہے ان کو سرزنش کریں۔یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اب اللہ تعالٰی دوبارہ تمہارا امتحان لینے کے لئے پھر دنیا کے ایک بہت بڑے حصہ کو غرق کر دے۔خدا نے ایک بار تمہارا امتحان لیا اور اس میں تم فیل ہو گئے اور بری طرح فیل ہوئے۔اب یہ نہیں ہو سکتا کہ تمہار ا دوبارہ امتحان لینے کے لئے اللہ تعالی دوبارہ لوگوں کو غرق کرے اور پھر سیلابوں سے تباہی آئے۔یہ سیلاب اور قحط وغیرہ اللہ تعالی کے بعض اور قوانین کے ماتحت آتے ہیں اور اس کی سنت ہے کہ وہ ایسے عذاب مسلسل نہیں بلکہ کچھ عرصہ کے بعد بھیجا کرتا ہے۔ایسے موقعہ پر خدمت خلق کرنے والی جماعتیں اپنے آپ کو پاس کرا لیتی ہیں مگر جو لوگ خدمت سے محروم رہتے ہیں وہ نیکی کے ایک بہت بڑے موقعہ کو اپنے ہاتھ سے ضائع کر دیتے ہیں۔دوسری بات جس کی طرف میں خدام الاحمدیہ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ بارشوں کی دوسری بات کثرت کی وجہ سے اس دفعہ قادیان میں بہت سے غرباء کے مکان گر گئے ہیں۔ان مکانوں کی مرمت اور تعمیر میں خدمت خلق کرنے والوں کو حصہ لینا چاہئے۔میں اس موقعہ پر ان کو بھی توجہ دلاتا ہوں جن کو معماری کا فن آتا ہے کہ وہ اپنی خدمات اس غرض کے لئے پیش کریں۔آج کل عام طور پر عمارتوں کے کام بند ہیں اور وہ اگر چاہیں تو آسانی سے اپنے اوقات اس خدمت کے لئے وقف کر سکتے ہیں۔پس جن معماروں کو خدا تعالی توفیق دے وہ ایک ایک دو دو تین تین چار چار دن جس قدر خوشی کے ساتھ دے سکتے ہوں دیں تاکہ غرباء کے مکانوں کی مرمت ہو جائے۔مزدور مہیا کر نا خدام الاحمدیہ کا کام ہو گا۔اس صورت میں بعض اور چیزوں کے لئے بہت تھوڑی سی رقم کی ضرورت ہوگی جس کے متعلق ہم کوشش کریں گے کہ چندہ جمع ہو جائے۔مگر جہاں تک خدمت کا کام ہے ، خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ اس کو خود مہیا کرے۔اس طرح خدا تعالی کے فضل سے بہت ہی کم خرچ پر غرباء کے مکانات کی مرمت ہو جائے گی۔تیسری چیز جس کی طرف میں خدام الاحمدیہ کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جیسا کہ میں نے بتایا تیسری چیز ہے نماز ایک قشر ہے اور اس کی اصل غرض یہ ہے کہ دلوں میں اللہ تعالٰی کی محبت اور ذکر الہی کا انس پیدا ہو۔اس لئے میں انہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نوجوانوں میں اس نوجوانوں کو ذکر الہی کی رغبت دلائی جائے قسم کے وعظ کثرت سے کرائیں ذکر الہی کا انس آج کل مغربی اثر کے ماتحت بہت کچھ کم ہوتا جاتا ہے۔جن میں ذکر الہی کی اہمیت بیان کی گئی ہو اور انہیں بتایا جائے کہ جب تک وہ بیت میں بیٹھنے اور ذکر الہی کرنے کی عادت اختیار نہیں کریں گے ، اس وقت تک خدا تعالی کے فضلوں کے نشانات کا وہ مشاہدہ نہیں کر سکیں گے۔اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا دیدار بچے رؤیا و کشوف اور الہامات وغیرہ انہیں نہیں ہو سکیں گے جب تک وہ ذکر الہی کی طرف توجہ نہیں کریں گے۔خالی خولی نماز پڑھ کر چلے جانا اور باقی وقت گپوں میں ضائع کر دینا بہت بری بات ہے۔اس سے دل سخت ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے انوار