مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 22

22 لی جائے اور میں یہ فیصلہ کر کے خوش تھا کہ اب اختلاف سے جماعت محفوظ رہے گی۔چنانچہ گذشتہ سال حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی نے بھی حلفیہ بیان شائع کرایا تھا کہ میں نے حافظ صاحب کو انہی دنوں کہا تھا کہ "اگر مولوی محمد علی صاحب کو اللہ تعالی خلیفہ بنادے تو میں اپنے تمام متعلقین کے ساتھ ان کی بیعت کرلوں گا“ (الفضل ۲ اگست ۱۹۳۷ء) لیکن اللہ تعالٰی نے دھکا دے کر مجھے آگے کر دیا۔تو اللہ تعالیٰ جس کو بڑا بنانا چاہے وہ دنیا کے کسی کو نہ میں پوشیدہ ہو۔خد اتعالیٰ اس کو نکال کر آگے لے آتا ہے۔کیونکہ خدا تعالی کی نظر سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہو سکتی۔چنانچہ اس کے لئے میں پھر حضرت لقمان والی مثال دیتا ہوں۔حضرت لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ابنى إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرَدَلٍ فَتَكُن فِي صَحْرَةٍ أَو فِي الأَسْمَوتِ أو فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللهُ (لقمان آیت ۱۷) کہ اے میرے بیٹے اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی کوئی چیز ہو اور وہ کسی پتھر میں پوشیدہ ہو یا آسمانوں اور زمین میں ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو نکال کر لے آئے گا۔اس کے معنی یہی ہیں کہ اگر تمہارے دل میں ایمان ہو۔تو خدا تعالیٰ تمہیں خود اس کام پر مقرر کرے گا۔جس کے تم اہل ہو۔تمہیں خود کسی عہدہ کی خواہش نہیں کرنی چاہئے۔تو وہ لوگ جو خدمت خلق کو اپنا مقصود قرار دیتے ہیں۔وہی ہر قسم کی عزت کے مستحق ہیں۔پھر اگر خدا تعالیٰ تمہیں خود مخدوم بنانا چاہے تو ساری دنیا مل کر بھی اس میں روک نہیں بن سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو خدا تعالیٰ کے مسیح اور مامور تھے۔اور پھر ایسے مامور تھے جن کی تمام انبیاء نے خبر دی۔ان کا ذکر تو بڑی بات ہے میں اپنے متعلق ہی شروع سے دیکھتا ہوں کہ مخالفتیں ہوتی ہیں اور اتنی شدید ہوتی ہیں کہ ہر دفعہ لوگ یہ سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ اب کی دفعہ یہ مخالفانہ ہوائیں سب کچھ اڑا کر لے جائیں گی۔مگر پھر وہ اس طرح بیٹھ جاتی ہیں۔جس طرح جھاگ بیٹھ جاتی ہے، تو جس کو اللہ تعالی قائم کرنا چاہے اس کو کوئی مٹا نہیں سکتا۔پس تمہیں اپنے دلوں میں سے ہر قسم کی نمود کا خیال مٹاکر ہر قسم کی نمود کا خیال مٹاکر کام کرنا چاہیئے کام کرنا چاہتے۔بیڑ بولا ہونا کوئی خوبی کی بات نہیں ہوتی۔حضرت عائشہ اللہ نے ایک دفعہ بعض لوگوں کو دیکھا کہ وہ تیز کلامی میں مشغول ہیں۔صحابہ چونکہ سادہ کلام کرنے کے عادی تھے اس لئے حضرت عائشہ الینا نے یہ معمولی فقرہ فرما دیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو باتیں کرتے دیکھا ہے۔آپ تو اس طرح تیز تیز باتیں نہیں کیا کرتے تھے۔اب ایک نیک شخص اور مومن انسان کو یہ فقرہ بالکل کاٹ دینے والا ہے۔اور وہ اسی سے سمجھ سکتا ہے کہ کس رنگ میں گفتگو کرنی چاہئے تو بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ زبان کے رس میں ساری کامیابی ہے۔حالانکہ اصل چیز باتیں کرنا نہیں بلکہ کام کرنا ہے۔مگر میں انہیں یہ بھی نصیحت کرتا ہوں یعنی یہاں کی مجلس خدام الاحمدیہ کو بھی اور ان مجالس خدام الاحمدیہ کو بھی جو میرے اس خطبہ کے نتیجہ میں قائم ہوں کہ وہ اس بات کو مد نظر ر کھیں کہ ان کا تعداد پر بھروسہ نہ ہو بلکہ کام کرنا ان کا مقصود ہو۔یہ بات میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں لیکن آج مجھے اس