مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 300

300 جاؤ اور جس طرح ہو سکے ، تیل لاؤ۔چنانچہ وہ تیل لینے کے لئے اپنے گھروں کو لوٹ گئیں۔ادھر وہ تیل لینے گئیں اور ادھر دولہا آگیا۔وہ جن کے پاس تیل تھا انہیں دولہا اپنے ساتھ لے گیا اور اس نے قلعہ کے اندر جاکر اس کا دروازہ بند کر لیا۔اتنے میں دوسری عورتیں بھی آپہنچیں اور انہوں نے دروازے پر دستک دی کہ ہم آگئی ہیں، ہمارے لئے دروازہ کھولا جائے۔دولہا نے کہا تم میری دلہنیں نہیں ہو۔میری دلہنیں وہ ہیں جو میرے انتظار میں کھڑی رہیں اور میرے ساتھ قلعہ کے اندر آئیں۔۔اسی طرح خدا تعالیٰ جب اپنے بندوں سے ملنے کے لئے آتا ہے تو وہ کبھی سیلابوں اور ابتلاؤں کی فلاسفی سیلابوں کی صورت میں آتا ہے۔کبھی زلزلوں کی صورت میں آتا ہے اور کبھی بیماریوں کی صورت میں آتا ہے۔جو لوگ خدمت خلق کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کا وصال حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ ایسے مواقع پر اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کر کے اس کے قرب کو پالیتے اور اس کی رضا کو حاصل کر لیتے ہیں۔گویا ان کی مثال ان دلنوں کی سی ہوتی ہے جن کے پاس تیل تھا اور جب دولہا آیا تو وہ اس کے ساتھ چل پڑیں مگر جو لوگ ایسے موقعہ پر دوسروں کی خدمت کرنے سے گریز کرتے ہیں ان کی مثال ان دلہنوں کی سی ہوتی ہے جن کا تیل ختم ہو گیا اور وہ دولہا کے ساتھ نہ جاسکیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ دولہا نے انہیں اپنی دلہنیں بنانے سے انکار کر دیا۔پس خدام الاحمدیہ کے وہ افسر جنہوں نے اس موقعہ پر غفلت اور کو تاہی سے کام لیا ہے ، ان کے متعلق تحقیق کر کے انہیں سرزنش اور تنبیہ کرنی چاہئے۔ان کا فرض تھا کہ وہ رات دن کام کرتے اور اس خطرناک مصیبت کے وقت لوگوں کی ہر رنگ میں اعانت کر کے اپنے فرض کو ادا کرتے مگر انہوں نے بہت بڑی کو تاہی سے کام لیا ہے اور اب خدام الاحمدیہ کے افسروں کا یہ کام ہے کہ ان کو سرزنش کریں۔دو تین سال تک انہیں محنت کرانے کا کیا فائدہ ہوا جب عین اس موقعہ پر جب کہ خدا نے ان کا امتحان لیا وہ فیل ہو گئے۔اگر وہ اس امتحان میں شامل ہو جاتے اور خراب پرچے کرتے تب بھی وہ اتنا کہہ سکتے تھے کہ ہم امتحان میں تو شامل ہو گئے۔یہ دوسری بات ہے کہ ہمارے پرچے اچھے نہیں ہوئے مگر ان کی تو یہ کیفیت ہے کہ وہ اس امتحان میں شامل ہی نہیں ہوئے۔امتحان کے کمرہ میں انہوں نے قدم بھی نہیں رکھا اور پرچے کو انہوں نے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔کیا تم سمجھتے ہو ایسے لوگوں کو خدائی یونیورسٹی کی طرف سے کوئی سند ملے گی۔سند کیا وہ تو ایسے لوگوں کا نام اپنے رجسٹروں سے نکال باہر کرے گی۔پھر صرف باہر کے خدام الاحمدیہ پر ہی نہیں بلکہ مرکز پر بھی مجھے افسوس ہے کہ اس نے اب تک کیوں اس بارہ میں کوئی قدم نہیں اٹھایا اور کیوں مجھے کہنے کی ضرورت پیش آئی۔انہیں تو چاہئے کہ جب بھی سنیں کہ لوگوں پر کوئی عام مصیبت آگئی ہے ، وہ اس کو دور کرنے کے لئے ایسے رنگ میں کام کریں جو دو سروں سے بہت زیادہ شاندار اور ممتاز ہو۔ہم صرف اتنی بات پر خوش نہیں ہو سکتے کہ ہمارے خدام نے دوسرے لوگوں جتنا کام کیا ہے بلکہ ہماری خوشی اور ہماری مسرت اس بات میں ہے کہ ہماری جماعت کے خدام الاحمدیہ دوسری تمام اقوام کے نوجوانوں سے زیادہ نمایاں حصہ خدمت خلق میں لیں۔پس خدام الاحمدیہ کے افسر