مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 288
288 دن کہتا رہتا ہے کہ میں خدا پر ایمان رکھتا ہوں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتا ہوں۔قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہوں تو اس کے نتیجہ میں کوئی کھیتی پیدا نہیں ہوگی کیونکہ کھیتی نفی سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ کسی بیج سے پیدا ہوتی ہے۔پس ہماری جماعت کے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اعمال میں اس امر کو مد نظر رکھا کریں کہ ان کا نام کیا رکھا گیا ہے۔اللہ تعالٰی نے ان کا نام مسلم رکھا ہے۔پس انہیں سوچنا چاہئے کہ کیا واقعہ میں وہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں اور کیا واقعہ میں وہ دنیا کے لئے امن کا موجب ہیں۔ہمیں تو نظر آتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بعض دفعہ نوجوان دوسروں پر خونی حملہ کر دیتے ہیں اور پھر دعوی یہ کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں۔دعوئی یہ کرتے ہیں کہ وہ احمدی ہیں حالانکہ اپنے عمل سے وہ اپنے آپ کو نہ احمدی ثابت کر رہے ہوتے ہیں نہ مسلمان۔احمدیت تو اسلام کا ہی دوسرا نام ہے۔کوئی الگ مذہب نہیں۔موجودہ زمانہ میں چونکہ مسلمان حقیقت اسلام سے بے گانہ ہو چکے تھے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کا نام احمد یہ جماعت رکھ دیا تاکہ دنیا کو معلوم کہ آج حقیقی اسلام کو ماننے والے دنیا میں احمدیوں کے سوا اور کوئی نہیں ورنہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ احمدیت اسلام کے سوا کوئی اور چیز ہے۔جب ہم احمدیت کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو ہمار ا مطلب صرف یہ ہو تا ہے کہ اسلام کی جو تشریح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہے اس کو مانے والے ہم ہیں۔یہ معنی نہیں ہوتے کہ اسلام کے سوا ہم نعوذ باللہ کسی اور مذہب کے پیرو ہیں۔پس اگر کوئی شخص اپنے عمل میں تبدیلی نہیں کرتا اور وہ اس بات کو ثابت نہیں کر دیتا کہ وہ واقعہ میں لوگوں کا خیر خواہ ہے اور وہ خود بھی امن سے رہتا اور دوسروں کے امن میں بھی خرابی پیدا نہیں کرتا اس وقت تک وہ احمدی کہلا کس طرح سکتا ہے؟ در حقیقت ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں جو جماعت اور قوم کو بد نام کرنے والے ہوتے ہیں ورنہ ایک مومن کو تو لوگوں کا اتنا خیر خواہ ہونا چاہئے کہ اسے ہر قسم کی تکالیف اٹھا کر دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اگر کوئی شخص اپنے نفس پر ہر قسم کی تکالیف برداشت کر کے دوسروں کو فائدہ پہنچائے تو اسے بھی کوئی نقصان نہیں ہو سکتا کیونکہ ہر شخص جو دوسرے کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ در حقیقت اپنے لئے بھی فائدے کا ایک راستہ کھولتا ہے اور جب اسے کوئی تکلیف ہوتی ہے دوسرے لوگ اسے مدد دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔گویا جب سارے لوگ اخلاق سے کام لینے والے ہوں تو کسی کو کوئی گھاٹا نہیں رہ سکتا۔مشہور واقعہ ہے کہ نپولین ایک دفعہ اپنی فوج کے ساتھ کسی دلدل میں سے گزر رہا تھا کہ اس کی فوج کے سپاہی سخت تھک گئے اور انہوں نے شکایت کی کہ اب ہم سے چلا نہیں جاتا۔وہ چونکہ دلدل کی جگہ تھی اس لئے