مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 272
>>>>>>>>>>>>>>>>>>; ٨٨٨٨٨٨٨٨MMMMMMMMMMMMMMMMMMMMMMMMMMMMMMMMMAAAAAA زندہ ہیں یہی افسانے دو دشمن کو ظلم کی برچھی سے تم سینہ و دل بر مانے دو یہ درد رہے گا بن کے دوا تم صبر کرو وقت آنے دو ی عشق و وفا کے کھیت کبھی خوں سینچے بغیر نہ پہنیں گے اس راہ میں جان کی کیا پروا جاتی ہے اگر تو جانے دو تم دیکھو گئے کہ انہی میں سے قطرات محبت نیکیں گے بادل آفات و مصائب کے چھاتے ہیں اگر تو چھانے دو صادق ہے اگر تو صدق دکھا قربانی کر ہر خواہش کی ہیں جنسِ وفا کے ماپنے کے دُنیا میں یہی پیمانے دو جب سونا آگ میں پڑتا ہے تو کندن بن کے نکلتا ہے پھر گالیوں سے کیوں ڈرتے ہو دل جلتے ہیں جل جانے دو عاقل کا یہاں پر کام نہیں وہ لاکھوں بھی بے فائدہ ہیں مقصود میرا پورا ہو اگر مل جائیں مجھے دیوانے دو وہ اپنا سر ہی پھوڑے گا وہ اپنا خون ہی بیٹی کا دشمن حق کے پہاڑ سے گر منکراتا ہے ٹکرانے دو یہ زخم تمہارے سینوں کے بن جائینگے رشک چمن اس دن ہے قادر مطلق یار مرا تم میرے یار کو آنے دو جو بچے۔مومن بن جاتے ہیں موت بھی اُن سے ڈرتی ہے تم سچے مومن بن جاؤ اور خوف کو پاس نہ آنے دو یا صدق محمد عربی ہے یا احمد ہندی کی ہے وفا باقی تو پرانے قصے میں زندہ ہیں یہی افسانے دو وہ تم کو حسین بناتے ہیں اور آپ یزیدی بنتے ہیں یہ کیا ہی ستا سودا ہے دشمن کو تیر چلانے دو میخانہ وہی ساقی بھی وہی پھر اس میں کہاں غیرت کا مل ہے دشمن خود بھینگا جس کو آتے ہیں نظر شمخانے دو محمود اگر منزل ہے کٹھن تو راہ نما بھی کامل ہے تم اُس پہ تو کل کر کے چلو آفات کا خیال ہی جانے دو *** >>>>>>>>>>>>>>>