مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 266
266 ادائیگی میں غفلت اور کو تاہی سے کام لیتا ہے تو اور لوگوں کی روٹی بھی بند ہو جاتی ہے۔تو اخلاق میں سے بعض بظا ہر انسان کی اپنی ذات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔لیکن در حقیقت ان کا تعلق تمام قوم کے ساتھ ہو تا ہے۔جیسے جھوٹ ہے یا سستی ہے یا غفلت ہے یا دھوکہ اور فریب ہے۔یہ ساری بدیاں ایسی ہیں کہ جن کے متعلق بظاہر انسان یہ سمجھتا ہے کہ ان کا صرف اس کی ذات کے ساتھ تعلق ہے حالانکہ وہ ویسے ہی قوم کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں جینے ان کا تعلق اس کی ذات کے ساتھ ہوتا ہے اور اگر وہ ان اخلاق کی درستی نہ کرے تو تمام قوم کو نقصان پہنچتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں میں اخلاق کی طرف بہت ہی کم توجہ ہے۔جماعت کے لئے اخلاق کی اہمیت بلکہ ابھی تک احمدیوں نے بھی اخلاق کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔میرے سامنے اس وقت تحریک جدید کے بورڈنگ کے بیچے بیٹھے ہیں۔میں نے تحریک جدید کے مطالبات میں ایک شق اخلاق فاضلہ کی بھی رکھی ہوئی ہے۔مگر میں نہیں سمجھتا کہ ان بچوں کے سپرنٹنڈنٹ اور اساتذہ وغیرہ اخلاق کی اہمیت کو ان پر پورے طور پر ظاہر کرتے ہیں۔اس لئے تحریک جدید کے بورڈنگ سے نکل کر جو طالب علم باہر گئے ہیں۔ان کے متعلق بھی کوئی زیادہ اچھی رپورٹیں نہیں آرہی ہیں حالانکہ ان کے ماں باپ کی اپنے بچوں کو تحریک جدید کے بورڈنگ میں داخل کرنے کی اصل غرض یہ تھی کہ تعلیم کے علاوہ ان کی اعلیٰ تربیت ہو۔ان میں محنت کی عادت ہوتی۔ان میں اعلیٰ درجہ کی دیانت پائی جاتی۔ان میں ہمدردی کا مادہ ہو تا۔ان میں سچ کا مادہ ہو تا۔ان میں قربانی اور ایثار کا مادہ ہوتا۔اسی طرح وہ ہر کام کے کرتے وقت عقل سے کام لیتے اور وقت کی پابندی کرتے اور یہ تمام باتیں ایسی ہیں کہ جب تک ان کو بار بار دہرایا نہ جائے اور جب تک بچوں کو ان باتوں پر عمل نہ کرایا جائے اس وقت تک وہ قوم اور دین کے لئے مفید ثابت نہیں ہو سکتے۔یہ اخلاق ہی ہیں جو انسان کو کہیں کا کہیں پہنچا دیتے ہیں۔چنانچہ جن لوگوں کو محنت سے کام کرنے کی عادت ہوتی ہے وہ خواہ کسی ملک میں چلے جائیں انہیں کامیابی ہی کامیابی حاصل ہوتی چلی جاتی ہے۔مگر جو ست ہوتے ہیں، انہیں گھر بیٹھے بھی کوئی کام نظر نہیں آتا۔میں نے دیکھا ہے بعض افسر سارا دن فارغ بیٹھے رہتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے محکمہ میں کوئی کام ہی نہیں۔انہیں کبھی یہ سوچنے کی توفیق ہی نہیں ملتی کہ ہمارے سپرد جو کام ہوا ہے اس کی کیا کیا شاخیں ہیں اور کس طرح وہ اپنے کام کو زیادہ وسیع طور پر پھیلا سکتے ہیں اور اس کے شاندار نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔وہ صرف استاہی کام جانتے ہیں کہ رجڑوں اور کاغذات پر دستخط کئے اور فارغ ہو کر بیٹھ رہے۔لیکن اسی جگہ اور اس دفتر میں جب کوئی کام کرنے والا افسر آتا ہے تو وہ اپنے کام کی ہزاروں شاخیں نکالتا چلا جاتا ہے اور اسے ہر وقت نظر آتا رہتا ہے کہ میرے سامنے یہ کام بھی ہے میرے سامنے وہ کام بھی ہے۔یوروپین قوموں کو دیکھ لو۔یہ جہاں جاتی ہیں انہیں کام نظر آجاتا ہے۔ہندوستانی کہتے ہیں کہ ہم بھوکے مر گئے۔مگر یورپین لوگوں کو ہندوستان میں بھی دولت نظر آ رہی ہے اور وہ اس دولت کو سمیٹتے چلے جاتے ہیں۔اسی طرح سیلونی کہتے ہیں کہ ہم بھوکے مر گئے۔مگر انگریزوں کو