مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 261

261 ہوتی ہیں بلکہ اس گئی گذری حالت میں بھی بیت الذکر میں جانے والے مسلمان زیادہ ملیں گے اور گر جائیں جانے والے عیسائی کم ملیں گے اس لئے کہ ان کے لئے بعض قواعد اور اصول وضع کر دیئے گئے ہیں اور ان قواعد اور اصول کو پورا کرتے ہوئے جو شخص بیت الذکر میں جاتا ہے وہ لازماً اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہتا ہے۔اگر خالی دل کی عبادت ہی کافی سمجھ لی جاتی تو نتیجہ یہ ہو تاکہ مسلمان بھی عیسائیوں کی طرح ست ہو جاتے اور تھوڑے ہی عرصہ میں وہ نماز سے بالکل غافل ہو جاتے۔کیونکہ کسی کو یہ کہنے کے لئے کہ میں دل میں خدا تعالی کو یاد کر رہا ہوں انسان جھوٹ سے بھی کام لے سکتا ہے مگر ایک مسلمان ایسا نہیں کہہ سکتا۔کیونکہ پہلے وضو کرنا پھر چل کر مسجد میں آنا اور پھر تمام لوگوں کا اکٹھے ہونا اور اس طرح اجتماعی رنگ میں سب کا عبادت کرنا ایسی باتیں ہیں جو نماز سے غافل نہیں ہونے دیتیں اور اگر کوئی غفلت کرے تو وہ فورا نظر آجاتا ہے۔چنانچہ غور کر کے دیکھ لو مسلمانوں میں ایسے لوگ بہت کم ہوں گے جو کبھی بھی مسجد نہ جا ئیں۔بہت سے لوگ تو ایسے ہیں جو پانچ وقت مسجد میں جاتے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں اور جو اس میں کسی قدرست ہیں۔وہ تین یا چار نمازوں میں چلے جاتے ہیں اور جو اس سے بھی زیادہ ست ہیں وہ دو وقت کی نماز میں شامل ہو جاتے ہیں اور جو اس کے بھی پابند نہیں وہ ایک نماز میں شامل ہو جاتے ہیں۔اور اگر کوئی کسی نماز کے لئے بھی بیت الذکر میں نہ جائے تو جمعہ پڑھنے کے لئے ضرور چلا جاتا ہے اور جو جمعہ کا بھی پابند نہیں ہو تاوہ عیدین میں شامل ہو جاتا ہے۔بہر حال کسی نہ کسی نماز میں وہ ضرور شامل ہوتا ہے۔اور ایسے لوگ مسلمانوں میں بہت ہی کم ملیں گے جنہوں نے دو دو یا چار چار سال تک کوئی ایک نماز بھی نہ پڑھی ہو۔اس کے مقابلہ میں لاکھوں لوگ ایسے مل جائیں گے جنہوں نے چالیس چالیس سال تک گرجے کا منہ نہیں دیکھا ہو گا۔یہی حال ہندوؤں وغیرہ کا ہے۔ان میں بھی عبادت کا بہت کم رواج ہے۔جنہوں نے بت خانے بنا کر ان پر پھول چڑھانا اور ان کے آگے سجدہ کرنا عبادت قرار دیا ہے ، ان میں تو پھر بھی عبادت زیادہ پائی جاتی ہے۔مگر آریوں نے چونکہ اس طریق کو غلط قرار دے دیا اس لئے اب ہزاروں میں سے کوئی ایک آریہ ہی ہو گا جو دیا نند جی کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق عبادت کرتا ہو۔اخباروں میں وہ شور مچائیں گے۔جلسوں میں وہ تقریر میں کریں گے۔مذہب کی سچائی پر وہ دھواں دھار لیکچر دیں گے۔مگر ان میں سے شاید کوئی ایک سور ما اور قومی خادم ایسا نکلے گا جو سال بھر میں ایک دفعہ دیا نند جی کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق عبادت کرنے والا ہو۔تو ظاہری جسم بھی ایک بڑی مفید اور کار آمد چیز ہے اور جن قوموں نے عبادت میں جسم کو شامل نہیں کیا وہ رفتہ رفتہ عبادت سے بالکل غافل ہو گئی ہیں۔اسی طرح عبادت میں روزہ شامل ہے اور ظاہر ہے کہ دیگر اسلامی عبادات کی فضیلت اور برتری بھوکا پیاسا رہنا ایک جسم ہے روح نہیں۔چنانچہ رسول کریم میل و یا لیلی فرماتے ہیں کہ اصل روزہ تو دل کا روزہ ہے مگر چونکہ خالی دل کا روزہ کوئی انسان نہیں رکھ سکتا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے بھوکا پیاسا رہنا بھی ضروری قرار دے دیا۔پھر حج ایک عبادت ہے اور اس کی اصل غرض یہ ہے