مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 260

260 ایک روحانی جسم ملے گا۔بلکہ وہاں کا جہان چونکہ اس جہان سے بہت زیادہ لطیف اور وسیع ہے اس لئے خواب کی حالت میں انسان کو جو جسم ملتا ہے وہ جسم اس سے بھی زیادہ شفاف اور مصفی ہو گا اور اسی لئے وہ جسم ان آنکھوں اور قومی سے نظر نہیں آسکتا۔تو ہر چیز کے لئے ایک جسم کی ضرورت ہوتی ہے مگر وہ جسم اپنی اپنی حالت کے مطابق بدلتے چلے جاتے ہیں۔جتنی روح کثیف ہوتی ہے اتنا ہی اس کو جسم کثیف ملتا ہے اور جتنی روح شفاف ہوتی ہے اتنا ہی اس کو جسم بھی شفاف ملتا ہے۔چنانچہ روح کی حالت جو خواب میں ہوتی ہے وہ اس سے زیادہ صاف ہوتی ہے جو جاگتے ہوئے روح کی حالت ہوتی ہے اور مرنے کے بعد جو حالت ہوگی وہ خواب کی حالت سے بھی زیادہ مصفی اور اعلیٰ ہو گی اور انسان کو خواب کے جسم سے بھی زیادہ شفاف جسم اللہ تعالیٰ کے طرف سے عطا کیا جائے گا۔بہر حال ہر روح کے لئے ایک جسم ضروری ہوتا ہے اور کوئی جسم روح کے بغیر کار آمد نہیں ہو سکتا۔جس طرح دنیا میں ہر انسان کا ایک مادی جسم ہوتا ہے اور جسم میں روح ہوتی ہے عبادات کا ظاہر اور باطن اسی طرح مذہب اور روحانیت کے بھی جسم ہوتے ہیں اور انسان کی ذہنی اور دماغی ترقیات کے بھی جسم ہوتے ہیں۔مثلاً اسلام نے نماز کی ادائیگی کے لئے بعض خاص حرکات مقرر کی ہوئی ہیں۔اب اصل غرض تو نماز کی یہ ہے کہ انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت پیدا ہو۔اس کی صفات کو انسان اپنے ذہن میں لائے اور ان کے مطابق اپنے آپ کو بنانے کی کوشش کرے۔اس کا قرب اسے حاصل ہو اور اس کا عشق اس کی غذا ہو۔ان باتوں کا ہاتھ باندھنے یا سیدھا کھڑے ہونے یا زمین پر جھک جانے سے کیا تعلق ہے ؟ ظاہر ہے کہ انسان اگر سرسری نگاہ سے اس بات کو دیکھے تو اسے نماز کی اصل غرض کے مقابلہ میں یہ باتیں بظاہر بے جوڑ دکھائی دیں گی۔مگر چونکہ کوئی روح جسم کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی اس لئے خدا تعالیٰ نے جہاں نماز کا حکم دیا وہاں بعض خاص قسم کی حرکات کا بھی حکم دے دیا۔جن مذاہب نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا اور انہوں نے اپنے پیروؤں کے لئے عبادت کرتے وقت حرکات کو ضروری قرار نہیں دیا وہ رفتہ رفتہ عبادت سے ہی غافل ہو گئے ہیں اور اگر ان میں کوئی نماز ہوتی بھی ہے تو ایک تمسخر سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔مثلا عیسائیوں میں یہ طریق ہے کہ وہ ہفتہ میں ایک دن عبادت کے لئے گر جا میں اکٹھے ہوتے ہیں۔پادری لیکچر دیتا ہے اور وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہتے ہیں۔بلکہ بعض تو لکھتے ہیں کہ گرجوں میں نوجوان تو صرف نوجوان عورتیں دیکھنے کے لئے جاتے ہیں۔اس سے زیادہ ان کے جانے کی اور کوئی غرض نہیں ہوتی۔گویا ان کے مذہب نے عبادت کا ایک تھوڑا سا حصہ جو رکھا تھا اسے بھی ان لوگوں نے ملاقات کا ذریعہ اور مقام بنالیا اور عبادت کی غرض و غایت کو بالکل فراموش کر دیا۔یہی وجہ ہے کہ صحیح رنگ میں خدا تعالٰی کی عبادت کرنے والے عیسائیوں میں بہت تھوڑے ہوتے ہیں۔اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کے لئے روزانہ پانچ وقت کی نمازیں مقرر نماز اور گر جا کی عبادت میں فرق ہیں اور باوجود اس کے کہ ایک مسلمان کو دن رات میں پانچ مرتبہ بیت الذکر میں جانا پڑتا ہے اور عیسائی ہفتہ میں ایک مرتبہ گر جا جاتے ہیں۔بیوت الذکر گرجوں کی نسبت زیادہ بھری ہوئی