مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 250 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 250

250 محنت کے فوائد سے محروم رہتی ہے۔تم غریب سہی۔تم کنگال سہی۔لیکن اگر تم میں سے کسی کی ایک کنال زمین بھی ہے تو جب تم اس زمین پر کھڑے ہوتے ہو تو یوں سمجھتے ہو کہ یہاں سے امریکہ تک سب جگہ تمہاری ہی حکومت ہے اور تمہارا دل اتنا بہادر ہوتا ہے اور تم کہتے ہو تمہیں کسی کی کیا پر واہ ہے اور اگر تمہاری ایک گھماؤں زمین ہوتی ہے یا دس گھماؤں زمین ہوتی ہے یا ہیں گھماؤں زمین ہوتی ہے تو پھر تو تمہاری یہ حالت ہوتی ہے کہ تم ایک طرف کھڑے ہو کر کہتے ہو کہ ہماری ایک پہیلی اس سرے پر ہے اور ایک پہلی اس سرے پر۔خواہ درمیان میں دس زمینداروں کی اور بھی زمینیں ہوں مگر ایسی حالت میں جب تم اپنی زمین پر تکبر کے ساتھ کھڑے ہوتے ہو۔ایک شخص پھٹے پرانے کپڑوں میں تمہارے پاس آجاتا ہے اور کہتا ہے، میں مسافر ہوں ، میری مدد کی جائے۔تم اس سے پوچھتے ہو تم کون ہو اور وہ کہتا ہے سید۔یہ سنتے ہی تم فورا اپنی چادر اس کے لئے بچھا دیتے ہو اور اس کے ساتھ ادب سے باتیں کرنا شروع کر دیتے ہو۔آخر اس کے ساتھ کون سی طاقت ہے جو تمہیں اس بات پر مجبور کر دیتی ہے کہ تم اس کے ساتھ عزت سے پیش آؤ اور اس سے ادب کا سلوک کرو۔وہ یہی طاقت ہے کہ وہ اپنے آپ کو محمد رسول الله عملی کی طرف منسوب کرتا ہے۔پس اس کی طاقت اپنی نہیں بلکہ محمد رسول اللہ علیم کی طاقت ہے۔جو آپ نے سادات میں منتقل کی اور جو آپ نے ہر مسلمان کے اندر منتقل کی اور ہر ایک نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اس طاقت کو اپنے اندر جذب کر کے اس سے فائدہ اٹھایا۔ابو بکر نے اپنی طاقت کے مطابق کام کیا۔عمر نے اپنی طاقت کے مطابق کام کیا۔عثمان نے اپنی طاقت کے مطابق کام کیا۔علی نے اپنی طاقت کے مطابق کام کیا۔طلحہ اور زبیر نے اپنی طاقت کے مطابق کام کیا اور تمہارے باپ دادا نے اپنی طاقت کے مطابق کام کیا۔اب تم جیسا کام کرو گے دنیا میں ویسا ہی تغیر پیدا ہو گا اور جتنا زور سے گیند پھینکو گے اتنا ہی دو ر وہ چلا جائے گا۔پس یہ نادانی کا خیال ہے جو بعض لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے ان قربانیوں سے کیا فائدہ اٹھانا ہے۔اگر ہماری قوم ہمارے خاندان اور ہماری نسل کے لئے عزت کا مقام حاصل ہو جائے تو دراصل وہ عزت ہمیں ہی حاصل ہو گی۔پس اس قسم کے وسوسوں کو چھوڑ کر اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرو جو تمہیں دین کے لئے ہر قسم کی قربانیوں پر آمادہ کر دے اور تمہیں سچا بہادر بنادے۔میں نے جب مجلس خدام الاحمدیہ قائم کی تھی تو در حقیقت میں نے تم سے یہ امید کی تھی کہ تم بچے بہادر بن جاؤ اور سچا بہادر وہ ہوتا ہے جو جھوٹ سے کام نہیں لیتا۔جو شخص دلیری سے کسی فعل کا ارتکاب کرتا ہے مگر بعد میں اپنے اس فعل پر بشر طیکہ وہ برا ہو ، نادم ہوتا ہے اور اسے چھپانے کی کوشش نہیں کرتا، وہ سچا بہادر ہے۔لیکن اگر وہ کوئی غلطی تو کرتا ہے مگر پکڑا جاتا ہے تو کہتا ہے میں نے یہ فعل نہیں کیا تو وہ جھو ٹا بہاد رہے۔اگر وہ اس کام کو اچھا نہیں سمجھتا تھا تو اس نے وہ کام کیا کیوں اور اگر غلطی سے کرلیتا ہے تو پھر دلیری سے اس کا اقرار کیوں نہیں کرتا۔اسلام جس بہادری کا تم سے تقاضا کرتا ہے وہ یہ ہے کہ تم بے شک معاف کرو مگر اس وقت جب تم اپنے عفو سے بہادر کہلا سکو۔تم بے شک چشم پوشی کرو مگر اس وقت جب تم چشم پوشی سے بہادر کہلا سکو۔تم بیشک غریب