مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 242
242 سادگی ضروری ہے۔سادگی قوم کو مستقل طور پر قربانی کرنے کے لئے تیار کر دیتی ہے۔اس سادگی میں لباس کی سادگی بھی شامل ہے۔زیور کی بھی۔میرے سامنے کئی مثالیں ہیں کہ بعض دوست پہلے سے بڑھ کر اب قربانیاں کرنے کے قابل ہو گئے۔پہلے ان کے اخراجات زیادہ تھے مگر سادگی اختیار کرنے کی وجہ سے اخراجات کم ہو گئے اور وہ زیادہ قربانی کرنے کے قابل ہو گئے۔پس سادہ زندگی اختیار کرنے سے دین کے لئے زیادہ قربانی کی توفیق حاصل ہو سکتی ہے اور اس طرح سے عورتیں اور بچے بھی ثواب میں شریک ہو سکتے ہیں۔میرا مطلب یہ نہیں کہ غذا میں کمی کر کے بچوں کی صحت خراب کر دی جائے۔اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔قومی فرائض سے ایک اہم ترین فرض بچوں کی صحیح طریق پر پرورش کرنا بھی ہے کیونکہ قوم کا آئندہ بوجھ ان کے کندھوں پر پڑنے والا ہوتا ہے۔اگر وہ کمزور ہوں تو اس بوجھ کو نہیں اٹھا سکیں گے۔اس لئے ان کو خوراک پوری دینی ضروری ہے۔ہاں اس میں سادگی کا خیال رکھنا چاہئے۔اور فضول خرچی کی عادت نہیں ڈالنی چاہئے۔ان کو دینی ارکان کا پابند بنایا جائے۔بلوغت سے قبل کبھی کبھی روزہ بھی رکھوانا چاہئے۔اس سے ان کی صحت خراب نہیں ہوتی بلکہ یہ صحت کے لئے فائدہ بخش چیز ہے۔میں نے دیکھا ہے بعض لوگ بچوں کو نماز کے لئے نہیں جگاتے۔وہ سمجھتے ہیں ابھی نیان (بچہ) ہے۔یہ درست نہیں ان کو نمازوں کی باقاعدگی کا عادی بنانا چاہئے۔پھر ورزش کی عادت بھی ڈالنی چاہئے۔کئی لوگ شکایت کرتے ہیں کہ خدام الاحمدیہ والے ورزش کراتے ہیں۔یہ شکایت ایسی ہی ہے جیسے کسی شخص کو جو دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا۔کسی نے کہا کہ اٹھ کر سایہ میں ہو جاؤ۔تو اس نے کہا کہ کیا دو گے۔بچوں کے ورزش کرنے سے خدام الاحمدیہ والوں کو کیا ملتا ہے۔اس سے تمہارا ہی فائدہ ہے کہ تمہارے بچوں کی صحت درست ہو جائے گی۔اخلاق درست ہوں گے اور چستی و چالا کی پیدا ہوگی۔اگر وہ تندرست و توانا ہو کر زیادہ کمائیں گے۔تو کیا خدام الاحمدیہ والوں کو کچھ دے دیں گے۔ہمارے ملک میں بچوں کو محنت کا عادی نہیں بنایا جاتا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بڑے ہو کر بھی سکتے ثابت ہوتے ہیں۔یورپ میں بچوں کو محنت کا عادی بنایا جاتا ہے جس سے بڑے ہو کر بھی وہ کام کے قابل ہوتے ہیں۔پس دوست اس بات کا خیال رکھیں کہ جہاں بچوں کے ساتھ ایسا سلوک نہ کیا جائے کہ ان کی صحت بگڑ جائے۔وہاں ان کی تربیت کا بھی خیال رکھا جائے۔انہیں محنت و مشقت کا عادی بنایا جائے۔مشکلات کے برداشت کرنے کی مشق کرائی جائے اور انہیں اپنے اوقات کو ضائع کرنے سے روکا جائے۔کیونکہ جن نوجوانوں میں یہ عیوب ہوں وہ ملک، قوم بلکہ ساری دنیا کے لئے مصیبت کا موجب ہوتے ہیں اور جو شخص تمہارے بچہ کی ایسی تربیت کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے وہ محنت اور مشقت کا عادی ہو۔وہ تمہارا دشمن نہیں بلکہ دلی دوست ہے اور اگر تم اسے چھوڑتے ہو تو پھر کوئی دوست تمہیں نہیں ملے گا۔" وو خطبہ جمعہ فرموده ۲ دسمبر ۱۹۴۰ء مطبوعہ الفضل ۶۴ جولائی ۱۹۶۰ء)