مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 228
228 ضروی ہو تا ہے۔مگر لٹریچر ایسی چیز نہیں کہ اس کے پڑھنے سے کسی کو روکا جاسکے۔بلکہ میں تو کہوں گا کہ ہماری جماعت کے افراد میں سے جن کو بھی فرصت ہو وہ مخالفین کے لٹریچر کو ضرور پڑھیں۔ہاں ہمارا یہ مطالبہ ہر وقت رہے گا کہ وہ صرف مخالفانہ لٹریچر کو ہی نہ پڑھیں بلکہ اپنے لٹریچر کو بھی بار بار پڑھیں۔پس میں تمہیں دوسروں کے اشتہارات یا پمفلٹ یا کتب پڑھنے سے منع نہیں کرتا۔بلکہ میں تمہیں کہتا ہوں کہ تم عیسائیوں کی کتابیں بھی پڑھو۔تم یہودیوں کی کتابیں بھی پڑھو۔تم آریوں کی کتابیں بھی پڑھو اور جتنی جتنی تمہیں فرصت ہو اس کے مطابق ان کے لٹریچر کا مطالعہ جاری رکھو۔یہ مطالعہ تمہارے لئے مضر نہیں بلکہ مفید ہے اور جتنا زیادہ یہ مطالعہ بڑھے گا اتنا ہی تمہارا کیریکٹر مضبوط ہو گا اور دوسروں کے حملوں سے تم محفوظ رہو گے۔کیونکہ تم جانتے ہو گے کہ تمہارا مخالف کیا کہتا ہے اور تمہارے پاس اس کا کیا جواب ہے ؟ اب اگر میرے سامنے کوئی عیسائی آئے اور کہے کہ مسیح ابن اللہ تھے تو مجھ پر اس کی بات کا کوئی اثر نہیں ہو گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مسیح کو کن معنوں میں ابن اللہ کہا گیا ہے۔میں جانتا ہوں کہ مسیح ایک بشر تھا۔میں جانتا ہوں کہ اس کے ابن اللہ ہونے کے کیا دلائل ہیں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جن قرآنی آیات سے وہ مسیح کے ابن اللہ ہونے کا استدلال کرتے ہیں ان کا کیا مفہوم ہے ؟ میں نے ان کے اعتراضوں کو پڑھا۔ان کے جوابات کو سمجھا اور مجھے یقین حاصل ہو گیا کہ جن آیات سے وہ حضرت مسیح کے ابن اللہ ہونے کا استدلال کرتے ہیں ، ان کے معنے وہ نہیں جو وہ کرتے ہیں۔بلکہ اور ہیں۔مثلاً اگر کوئی عیسائی کہے کہ قرآن میں حضرت مسیح کے متعلق روح منه (النساء: ۱۷۲) کے الفاظ آتے ہیں اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ روح اللہ تھے تو میں اس سے قطعا نہیں گھبراؤں گا۔کیونکہ مجھے اس اعتراض کا جواب آتا ہے اور جب آتا ہے تو میرے لئے گھبرانے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔تو غیروں کی باتوں کا پڑھنا بشر طیکہ جس مذہب میں انسان داخل ہو اس کی اسے پوری واقفیت حاصل ہو نہ صرف جائز ہے بلکہ نہایت ضروری اور مفید ہے۔بلکہ اگر کبھی فرصت ہو تو اس قسم کے ٹریکٹوں کو بیوت الذکر میں پڑھ کر سنا دینا چاہئے اور جماعت کے دوستوں کو بتانا چاہئے کہ دوسروں نے یہ یہ اعتراض کیا ہے اور ان اعتراضات کے یہ یہ جوابات ہیں مگر اس قسم کے ٹریکٹوں کا سنانا باقی تمام ضروریات پر مقدم نہیں کر لینا چاہئے۔یعنی یہ نہیں ہونا چاہئے کہ قرآن کا درس چھوڑ دیا جائے۔حدیث کا درس چھوڑ دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا درس چھوڑ دیا جائے۔اسی طرح اور وعظ و نصیحت کی باتوں کو چھوڑ دیا جائے اور مخالف ٹریکٹوں کو سنانا شروع کر دیا جائے۔یہ سخت بد دیانتی ہے کہ انسان جس مذہب میں شامل ہو اس کے متعلق تو ابھی سے پوری واقفیت حاصل نہ ہو اور دوسروں کے لٹریچر کو پڑھنے میں وہ مشغول ہو جائے تم پہلے اپنی جماعت کے لٹریچر کو پڑھو اور جب احمدیت کے عقائد احمدیت کی تعلیم اور احمدیت کے دلائل سے تم پوری طرح آگاہ ہو جاؤ تو پھر تمہارا حق ہے کہ دوسروں کی کتابوں کو بھی پڑھو اور اگر تمہیں اپنے مذہب کی تعلیم پر غور کرتے ہوئے یہ خیال پیدا ہو تا ہے کہ تمہار امذ ہب سچا نہیں تو تمہارا فرض ہے کہ تم سچائی کی کسی اور مذہب میں تلاش کرو۔تاکہ تم اگر سچ پر قائم نہیں تو کم از کم تم خدا