مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 210

210 کرنا تھا انہوں نے ثواب حاصل کر لیا ہے۔اب ۱۵ سے ۴۰ سال تک کی عمر والوں کے لئے خدام الاحمدیہ میں شامل ہونا لازمی ہے اور اس لحاظ سے اب وہ ثواب نہیں رہا جو طوعی طور پر کام کرنے کے نتیجہ میں حاصل ہو سکتا تھا۔بے شک خدمت کا اب بھی ثواب ہو گا لیکن جو طوعی طور پر داخل ہوئے اور وفا کا نمونہ دکھایا وہ سابق بن گئے۔البتہ انصار اللہ کی مجلس چونکہ اس شکل میں پہلے قائم نہیں ہوئی اور نہ کسی نے میرے کسی حکم کی خلاف ورزی کی ہے اس لئے اس میں جو بھی شامل ہو گا اسے وہی ثواب ہو گا جو طوعی طور پر نیک تحریکات میں شامل ہونے والوں کو ہوتا ہے۔میں ایک دفعہ پھر جماعت کے کمزور حصہ کو اس امر کی طرف توجہ دلا دیتا ہوں کہ دیکھو شتر مرغ کی طرح مت بنو۔جو کچھ بنو اس پر استقلال سے کاربند رہو۔اگر تمہارا یہ دعوی ہے کہ تم رسول کریم میں کے ا صحابہ کے مثیل ہو تو تمہیں اپنے اندر صحابہ کی صفات بھی پیدا کرنی چاہئیں اور صحابہ کے متعلق یہی ثابت ہے کہ ان سے دین کا کام حکما لیا جاتا تھا۔پس جب صحابہ کو یہ اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ دینی احکام کے متعلق کسی قسم کی چون و چراکریں تو تمہیں یہ اختیار کس طرح حاصل ہو سکتا ہے۔یا تو یہ کہو کہ حضرت مرزا صاحب نبی نہیں تھے اور چونکہ وہ نبی نہیں تھے اس لئے ہم بھی نہیں اور نہ صحابہ سے ہماری مماثلت کے کوئی معنے ہیں۔مگر اس صورت میں تمہارا مقام قادیان میں نہیں بلکہ لاہور میں ہو گا۔کیونکہ وہی لوگ یہ کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب رسول کریم ی یا امیر کے حل کامل نہیں تھے جس کے لازی معنی یہ بنتے ہیں کہ جب مرزا صاحب نبی نہیں تھے تو وہ بھی نہیں مگر ان میں بھی شتر مرغ والی بات ہے کہ وہ دعوئی تو یہ کرتے ہیں کہ مرزا صاحب رسول کریم ملی ایم کے کل کامل یعنی نبی نہیں تھے مگر کہتے اپنے آپ کو ہی ہیں۔حالانکہ کہ اگر مرزا صاحب نبی نہیں تو وہ صحابی کس طرح ہو گئے۔چنانچہ بار بار ہمارے مقابلہ میں غیر مبالکین نے اپنے اکابر کو صحابہ کے طور پر پیش کیا ہے۔گویا مولوی محمد علی صاحب تو۔۔۔بن گئے مگر مرزا صاحب ان کے نزدیک " مخصوص عالم " ہی رہے۔پس ایسے لوگوں کا مقام لاہو ر ہے قادیان نہیں۔ہر چیز جہاں کی ہو وہیں بجتی ہے۔ان کو بھی چاہئے کہ قادیان سے اپنا تعلق تو ڑ کر لاہور سے اپنا تعلق قائم کر لیں۔پھر ہم ان کاموں کے متعلق ان سے کچھ نہیں کہیں گے۔مگر جب تک وہ ہم میں شامل رہیں گے ہم ان سے دین کی خدمت کا کام نظام کے ماتحت ضرور کرائیں گے اور اگر انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو ہم اس بات پر مجبور ہوں گے کہ ایسے کمزور لوگوں کو اپنی جماعت سے خارج کر دیں۔میں نے متواتر بتایا ہے کہ کوئی جماعت کثرت تعداد سے نہیں جیتی۔قرآن کریم نے بھی اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ كُم مِنْ فِئَةٍ قليلةٍ غَلَبَتْ فَتَةٌ كَثِيرَةً بِاذْنِ اللهِ (البقرة :۲۵۰) یعنی کئی دفعہ قلیل التعداد جماعتیں کثیر تعداد رکھنے والی اقوام پر غالب آجایا کرتی ہیں۔پس محض کثرت کچھ چیز نہیں اگر اس کثرت میں ایمان اور اخلاص نہیں۔پھر میں کہتا ہوں اگر یہ لوگ ہم میں شامل ہی رہیں تو کسی قوم کے مقابلہ میں بھلا ہمیں کونسی غیر معمولی فوقیت حاصل ہو سکتی ہے۔ہندوستان میں سب سے کم تعداد سکھوں کی سمجھی جاتی ہے مگر وہ بھی تھیں چالیس لاکھ ہیں۔اور ہم تو ان سکھوں کے مقابلہ میں بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔