مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 208

208 اور قریبی رشتہ دار اور دوست کو اجازت ہو گی۔اسی طرح ان دنوں میں انہیں قادیان سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں ہو گی۔مبادا وہ خیال کرلیں کہ ان دنوں وہ قادیان سے چلے جائیں گے اور اس طرح اپنی شرم کو چھپالیں گے۔بلکہ انہیں قادیان میں رہتے ہوئے یہ تین دن پورے کرنے پڑیں گے اور ان کی کسی قریب ترین ہستی کو بھی ان سے بولنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ہاں انہیں صبح شام روٹی پہنچانا خدام الاحمدیہ کا کام ہو گا۔اسی طرح جن لوگوں نے وعدہ کر کے کام نہیں کیا (سوائے دسویں جماعت کے طلباء کے جن کو مقرر کرنے میں خود خدام الاحمدیہ کے افسروں کی غلطی ہے) ان کے الزام کی بھی تحقیق کی جائے اور جب الزام ان پر ثابت ہو جائے تو ان کو ایک ایک دن کے مقاطعہ کی سزادی جائے۔اس عرصہ میں ماں اور باپ اور بیوی اور بچوں اور دوسرے تمام رشتہ داروں کا فرض ہے کہ جس طرح ایک گندہ چیتھڑا اپنے گھر سے نکال کر باہر پھینک دیا جاتا ہے اسی طرح وہ اسے اپنے گھر سے نکال دیں۔باپ بچے کو نکال دے۔بھائی دوست و غیرہ سب اس دن کے لئے اس سے قطع تعلق کر لیں اور وہ گھر کو چھوڑ کر مسجد یا کسی اور مناسب مقام پر چلا جائے اور چو ہمیں گھنٹے تک لگا تار و ہیں رہے ہاں ان لوگوں کو بھی کھانا پہنچا نا خدام الاحمدیہ کا کام ہو گا۔مگر میں سمجھتا ہوں کام کی ذمہ داری صرف پندرہ سے چالیس سال کی عمروالوں پر ہی نہیں بلکہ اس سے اوپر اور نیچے والوں پر بھی ہے۔اس لئے میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ ایک مہینہ کے اندر اندر خدام الاحمدیہ آٹھ سے پندرہ سال کی عمر تک کے بچوں کو منظم کریں اور اطفال الاحمدیہ کے نام سے ان کی ایک جماعت بنائی جائے اور میرے ساتھ مشورہ کر کے ان کے لئے مناسب پروگرام تجویز کیا جائے۔اسی طرح چالیس سال سے اوپر عمر والے جس قدر آدمی ہیں وہ انصار اللہ کے نام سے اپنی ایک انجمن بنا ئیں اور قادیان کے وہ تمام لوگ جو چالیس سال سے اوپر ہیں اس میں شریک ہوں۔ان کے لئے بھی لازمی ہو گا کہ وہ روزانہ آدھ گھنٹہ خدمت دین کے لئے وقف کریں۔اگر مناسب سمجھا گیا تو بعض لوگوں سے روزانہ آدھ گھنٹہ لینے کی بجائے مہینہ میں تین دن یا کم و بیش اکٹھے بھی لئے جاسکتے ہیں۔مگر بہر حال تمام بچوں بوڑھوں اور نوجوانوں کا بغیر استثناء کے قادیان میں منظم ہو جانالازمی ہے۔مجلس انصار اللہ کے عارضی پریذیڈنٹ مولوی شیر علی صاحب ہوں گے اور سیکرٹری کے فرائض سرانجام دینے کیلئے میں مولوی عبدالرحیم صاحب درد چوہدری فتح محمد صاحب اور خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کو مقرر کر تا ہوں۔تین سیکرٹری میں نے اس لئے مقرر کئے ہیں کہ مختلف محلوں میں کام کرنے کے لئے زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہے۔ان کو فورا قادیان کے مختلف حصوں میں اپنے آدمی بٹھا دینے چاہئیں اور چالیس سال سے اوپر عمر رکھنے والے تمام لوگوں کو اپنے اندر شامل کرنا چاہئے۔یہ بھی دیکھ لینا چاہئے کہ لوگوں کو کس قسم کے کام میں سہولت ہو سکتی ہے۔اور جو شخص جس کام کے لئے موزوں ہو اس کے لئے اس سے نصف گھنٹہ روزانہ کام لیا جائے۔یہ نصف گھنٹہ کم سے کم وقت ہے اور ضرورت پر اس سے بھی زیادہ وقت لیا جا سکتا ہے۔یا یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ کسی سے روزانہ آدھ گھنٹہ لینے کی بجائے مہینہ