مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 200
200 مگر یہاں جو خبر دی گئی کہ وَ اخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا هم اس میں کام ”وہی رسول" کے معنی بھی وہی رکھا گیا ہے جو م م م لی لی نے کیا اور نام بھی وہی رکھا گیا ہے جو آپ کا تھا کیونکہ فرمایا و اخرين منهم لما يلحقوا بهم وہی رسول پھر آخرین میں مبعوث ہو گا اور وہی رسول کے معنی یہی ہو سکتے ہیں کہ صفات بھی ویسی ہوں گی۔کام بھی وہی ہو گا اور نام بھی وہی ہو گا۔گویا صفات کے لحاظ سے وہ ظل ہو گا رسول کریم میں ریلی کا اور کاموں کے لحاظ سے وہ تابع ہو گا رسول کریم میں الا یہ کا۔جس طرح وہ صلی دوم صلی علمی روم نمازیں پڑھا کرتے تھے اسی طرح یہ نمازیں پڑھے گا۔جس طرح وہ روزے رکھا کرتے تھے اسی طرح یہ روزے رکھے گا۔جس طرح وہ زکوۃ دیا کرتے تھے اسی طرح یہ زکوۃ دے گا جس طرح وہ احکام الہیہ پر چلتے تھے اسی طرح یہ احکام الہیہ پر چلے گا۔یہ تابعیت ہے جو اسے رسول کریم ملی و یا لیلی کی حاصل ہو گی اور دوسری طرف جو آپ کی خصلتیں ہونگی وہی اس کی خصلتیں ہوں گی اور جو آپ کے اخلاق ہوں گے وہی اس کے اخلاق ہوں گے۔اور یہ اس کے ظل ہونے کا ثبوت ہو گا۔مگر حضرت عیسی علیہ السلام نے الیاس والے کام نہیں کئے۔الیاس نے اپنے زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق تعلیم دی اور حضرت عیسی علیہ السلام نے اپنے زمانہ کی ضرورتوں کے مطابق تعلیم دی۔پس گو وہ ظل تھے الیاس کے۔مگر الیاس کے تابع نہیں تھے بلکہ تابع حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہی تھے۔لیکن محمد ملا لی ایم کے متعلق فرما دیا کہ آپ کی نیابت میں جو لوگ کھڑے ہوں گے وہ آپ کے ظل بھی ہو نگے اور آپ کے تابع بھی ہوں گے اور یہ دونوں باتیں ان میں پائی جاتی ہوں گی۔اسی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتب میں بارہا اپنے متعلق یہ ذکر فرمایا ہے کہ میں امتی نبی ہوں یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقطہ نگاہ سے میں امتی ہوں۔مگر تم لوگوں کے نقطہ نگاہ سے میں نبی ہوں۔جہاں میرے اور تمہارے تعلق کا سوال آئے گا وہاں تمہیں میری حیثیت وہی تسلیم کرنی پڑے گی جو ایک نبی کی ہوتی ہے۔جس طرح نبی پر ایمان لانا ضروری ہو تا ہے اسی طرح مجھ پر ایمان لانا ضروری ہو گا۔جس طرح نبی کے احکام کی اتباع فرض ہوتی ہے اسی طرح میرے احکام کی اتباع تم پر فرض ہوگی۔مگر جب میں محمد صلی اللہ کی طرف مونہہ کر کے کھڑا ہوں گا تو اس وقت میری حیثیت ایک امتی کی ہوگی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر فرمان میرے لئے واجب التعمیل ہو گا اور آپ کی رضا اور خوشنودی کا حصول میرے لئے ضروری ہو گا۔گویا جس طرح ایک ہی وقت میں دادا اور باپ اور پوتا اکٹھے ہوں تو جو حالت ان کی دادا اور باپ اور پوتا ہوتی ہے وہی مالی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہے۔ایک باپ جب محمد اپنے باپ کی طرف مونہہ کرتا ہے تو وہ باپ کی حیثیت نہیں رکھتا۔بلکہ بیٹے کی حیثیت رکھتا ہے لیکن وہی باپ جب اپنے بیٹے کی طرف مونہہ کر کے کھڑا ہوتا ہے تو اس کی حیثیت باپ کی ہو جاتی ہے اور بیٹے کا فرض ہوتا ہے کہ اس کا ہر حکم مانے۔بیٹا یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب تم اپنے باپ کی طرف مونہ کر کے کھڑے تھے تو اس وقت تمہاری حیثیت تھی نہ کہ باپ کی۔تو اب تمہاری حیثیت باپ کی کسی طرح ہو سکتی ہے کیونکہ اب اس کا مونہہ اپنے باپ کی