مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 198
198 اور انہوں نے اس کے متعلق دعا بھی کی۔چنانچہ فرمایا و من ذریتی که میری اولاد میں سے بھی ائمہ ہوتے رہیں۔تو یہ کہنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بعد کے زمانہ کی ضروریات کی طرف ذہن ہی نہیں گیا بالکل غلط ہے۔کیونکہ ان کی دوسری دعا نے بتا دیا۔کہ انہیں قیامت تک لوگوں کی ہدایت کا خیال تھا اور جب انہیں اس امر کا خیال تھا او ر وہ سمجھتے تھے کہ ائمہ کا ہمیشہ آتے رہنا ضروری ہے تو پھر اس دعا پر انہوں نے کیوں کفایت کی کہ خدایا ان میں ایک رسول بھیج۔جو انہیں تیری آیات پڑھ پڑھ کر سنائے انہیں کتاب اور حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے۔اس سوال کا جواب ہمیں قرآن کریم سے ہی معلوم ہوتا ہے۔چنانچہ سورہ جمعہ میں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔يُسَبِّحُ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ الْمَلِكِ القُدرسِ الْعَزِيزِ الْحَكِيم - هُوَ الذي بَعَتَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ التِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب والحكمة (الجمعہ : ۳۴۲) یہ وہی الفاظ ہیں جو حضرت رور ابراہیم علیہ السلام نے دعا کرتے ہوئے استعمال کئے تھے۔فرماتا ہے وہ خدا بڑی بلند شان والا ہے جس نے ابراہیم کی دعا کو سن کر اسپین میں اپنا رسول مبعوث کیا۔یتلوا عليهم ایتہ وہ ان کو اس کی آیتیں پڑھ پڑھ کر بناتا ہے۔ویزکیھم اور ان کو پاک کرتا ہے۔ويُعلمهم الكتب و الحكمة اور ان کو آسمانی کتاب کو سمجھاتا اور شرائع کی بار یک دربار یک حکمتیں بتاتا ہے۔یہ بتا کر کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا قبول ہو گئی۔اور اب اس اعتراض کا ازالہ کرتا ہے جو بعض طبائع میں پیدا ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا نا مکمل ہے کیونکہ جہاں اپنی اولاد کے متعلق عام دعا انہوں نے یہ کی تھی کہ ان میں متواتر رسول آتے رہیں۔وہاں مکہ والوں کے متعلق انہوں نے صرف یہ دعا کی کہ ان میں سے ایک رسول مبعوث ہو۔چنانچہ فرماتا ہے۔و اخرین مِنهُم لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمُ ان دعاؤں میں بے شک ایک فرق ہے۔مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ ابراہیمی اولاد کے بعض حصوں میں ایسے نبی آنے تھے جنہوں نے اپنی ذات میں مستقل ہونا تھا۔مگر ابراہیم علیہ السلام نے مکہ والوں کے متعلق جو دعا کی وہ صرف ایسے رسول کے متعلق تھی جس نے ایک ہی رہنا تھا اور جس کے متعلق یہ مقدر تھا کہ آئندہ دنیا میں ہمیشہ اس کے اظلال داتباع پیدا ہوتے رہیں۔پس چونکہ یہ خدا کا فیصلہ تھا کہ اس رسول نے بار بار متبع اظلال کے ذریعہ دنیا میں ظاہر ہوتے رہنا ہے اس لئے بالفاظ دیگر اماموں کا سلسلہ بھی ہمیشہ قائم رہنا تھا اور رسول بھی ایک ہی رہنا تھا کیونکہ ان کی امامت اور رسالت جدا گانہ نہیں ہوئی تھی۔بلکہ محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی نبوت ورسالت میں شامل ہونی تھی۔یہی وجہ ہے کہ اس دعا کے نتیجہ میں چونکہ ایک ایسار سول آنا مقدر تھا جس نے بار بار اپنے اظلال کے ذریعہ دنیا میں آنا تھا اس لئے رملا کہنے کی ضرورت نہ تھی۔بلکہ رسولا ہی کہنا چاہئے تو اخرين مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِھم میں اس اعتراض کا جواب دے دیا گیا ہے کہ جہاں انہوں نے اپنی اولاد کے متعلق عام دعا کی وہاں تو ان میں بار بار رسول اور امام بھیجنے کی التجا کی۔مگر جہاں مکہ والوں کے متعلق خاص طور پر دعا کی تو وہاں صرف ایک رسول بھیجنے کی رابهم