مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 197
197 میں مبتلا ہوئی کیا اس کی تو نے لوگوں کو تعلیم دی تھی۔اور کیا تو نے یہ کہا تھا کہ میری اور والدہ کی پرستش کرو۔تو اس کے جواب میں وہ کہیں گے وَ كُنتُ عَلَيْهِم شَهِيدا مَا دُمتُ فِيهِمْ فَلَما توفيتنِي كُنت انت الرقيب عَلَيْهِم (المائدہ: ۱۱۸) کہ جب تک میں ان میں رہا' ان کی نگرانی کر تا رہا مگر جب مجھے وفات دے دی گئی تو حضور پھر میں کیا کر سکتا تھا اور مجھے کیو نکر معلوم ہو سکتا تھا کہ میری قوم بگڑ گئی ہے۔گویا حضرت عیسی علیہ السلام بھی یہ امر تسلیم کرتے ہیں کہ نبی کا اثر کا اثر ایک عرصہ تک ہی چلتا ہے ایک عرصہ تک ہی چلتا ہے۔اس کے بعد اگر قوم بگڑ جاتی ہے تو كُنت انت الرقيب عَلَيْهِم خدا تعالیٰ کو ان کی ہدایت کا کوئی اور سامان کرنا پڑتا ہے۔یہ بھی تصدیق ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کی کہ کو مین در سی یعنی میری ذریت میں سے بھی ایسے لوگ ہونے چاہئیں ور نہ دنیا کی ہدایت قائم نہیں رہ سکتی۔تو حضرت عیسی علیہ السلام کا بیان ایک اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا دو۔یہ اس بات کے شاہد ہیں جو قرآن کریم میں بیان ہوئی کہ دنیا میں ہدایت کے قیام کے لئے متواتر اماموں کا ہونا ضروری ہے۔جب متواتر اماموں کا ہونا ضروری ہے اور اس کے بغیر ہدایت قائم نہیں رہ سکتی۔تو پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کے کیا معنے ہوئے کہ رَبَّنَا وَ أَبَعَثُ فِيهِمْ رَسُولاً مِنْهـ اے میرے رب ان میں ایک رسول بھیج۔پھر تو انہیں یہ دعا مانگنی چاہئے تھی کہ رَبَّنَا و ابعث فِيهِمُ رُسُلًا مِنْهُم يَتْلُونَ عَلَيْهِمُ ابْتِكَ و يُعلِمُونَهُمُ الكتب والحكمة ويركُونَهُم - کہ اے میرے رب ! ان میں بہت سے انبیاء بھیجیو جو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر انہیں سنائیں اور تیری شریعت کے احکام اور ان کی عظمتیں انہیں بتائیں اور انہیں اپنی قوت قدسیہ سے پاک کرتے رہیں۔مگر وہ تو یہی دعا کرتے ہیں کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُم - ا میرے رب! ان میں ایک رسول بھیج۔يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ایک وہ تیری آیتیں پڑھے نہ کہ پڑھیں۔ويُعلِمُهُ:م:UAGE TAKENALTAGEحكمة اور وہ ان کو کتاب اور حکمت سکھائے نہ کہ سکھائیں ویزکیھم اور وہ ان کو پاک کرے۔نہ کہ پاک کریں۔مگر خود وہی دوسرے موقعہ پر دعا کے ذریعہ اس امر کا اقرار کر چکے ہیں کہ میری نبوت کافی نہیں ہو سکتی۔جب تک میری اولاد میں سے بھی انبیاء نہ ہوں۔اور جب تک نبیوں کا ایک لمبا سلسلہ دنیا میں قائم نہ ہو اس ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ کیوں دعا کی۔کہ ان میں ایک نبی معبوث کیجیئں۔یہ ایک سوال ہے جس کو اگر ہم قرآن کریم سے ہی حل نہ کر سکیں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر خطرناک الزام آتا ہے۔کہ انہوں نے ایک ایسی دعا کی جس سے دنیا کو ہدایت کامل نہیں مل سکتی تھی۔اور دنیا کے لئے نور کا ایک رستہ کھولتے ہوئے انہوں نے اسے معا بند کر دیا۔یہ تو کہا جا سکتا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذہن آگے کی طرف گیا ہی نہیں۔انہوں نے صرف یہ چاہا کہ میرے بعد ایک نبی آجائے۔اور آئندہ کے متعلق وہ خود دعا کرتا رہے۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دوسری دعا نے بتادیا کہ ان کے دل میں یہ خیال آیا ر دو اے