مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 196
196 " حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کے متعلق ایک دعا کی تھی وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا جس کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے اور وہ دعا یہ تھی کہ رتن کو ابعث فِيهِمْ رَسُولاً مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ أيتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِم (البقرہ:۱۳۰) اے میرے رب ! تو ان میں ایک نبی مبعوث فرما جس کا کام یہ ہو کہ يَتْلُوا عَلَيْهِم ایتِكَ وه تیری آیتیں انہیں پڑھ کر سنائے۔وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب والحكمة اور شریعت کے احکام اور ان کی عمتیں انہیں سمجھائے۔ویز تحبهم اور انہیں پاک کرے یا یزکیھم کے دوسرے معنوں کے مطابق انہیں ادفی حالتوں سے ترقی دیتے دیتے اعلیٰ مقامات تک پہنچا دے۔یہ دعا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کی ہے اس کے بالمقابل انہوں نے اپنی اولاد کے متعلق ایک عام دعا بھی کی ہے۔چنانچہ جب اللہ تعالیٰ کے بعض احکام کی انہوں نے فرمانبرداری کی اور اللہ تعالٰی نے ان کی اس خدمت کو قبول کیا اور فرمایا کہ ہم تم کو امام بناتے ہیں۔تو رانٹی جاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِ ماما کی خبر سننے کے بعد انہوں نے فرمایا و من ذریتی (البقرہ: ۱۲۵) میری امامت تو میرے زمانہ کے لوگوں تک ختم ہو جائے گی۔لیکن دنیا تو اماموں کی ہمیشہ محتاج رہے گی اور جب دنیا ہمیشہ اماموں کی دنیا ہمیشہ اماموں کی محتاج رہے گی محتاج رہے گی۔تو اے خدا میری ذریت میں سے بھی امام مقرر کئے جائیں۔گویا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس امر کو تسلیم کیا ہے کہ کوئی نبی ہمیشہ ہمیش کے لئے دنیا کے لئے رہبر نہیں رہ سکتا۔بلکہ بار بار خدا تعالیٰ کی طرف سے امام آنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اب بار بار امام آنے کی ضرورت ایک طرف وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار امام آنے کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں اور اس کے مطابق اپنی اولاد میں سے متواتر امام بنائے جانے کی درخواست کرتے ہیں اور دوسری طرف مکہ سے تعلق رکھنے والے سلسلہ کے متعلق یوں دعا فرماتے ہیں۔رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُم کہ اے میرے رب! ان میں ایک رسول بھیج۔اب سوال یہ ہوتا ہے کہ یہاں انہوں نے صرف ایک رسول مبعوث کئے جانے کی کیوں دعا کی۔جب کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ایک رسول کافی نہیں ہو تا۔بلکہ دنیا ہمیشہ رسولوں کی محتاج رہتی ہے اور اسی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتے ہیں کہ میری امامت کبھی اچھے نتیجے پیدا نہیں کر سکتی جب تک میری اولاد میں سے بھی امام نہ ہوں اور جب تک ہدایت کا وہ پیج جو میرے ہاتھوں سے بویا جائے اس کا بعد میں بھی نشو و نمانہ ہو تا رہے۔میں تو امام ہو گیا۔لیکن اگر بعد میں دنیا گمراہ ہو گئی تو میری امامت کیا نتیجہ پیدا کرے گی۔حضرت عیسی علیہ السلام جو آپ کی ذریت سے تعلق رکھنے والے اماموں میں سے ایک امام ہیں ان کے متعلق بھی قرآن کریم میں ذکر آتا ہے۔کہ قیامت کے دن جب خداتعالی ان سے پوچھے گا کہ تیری قوم جس شرک