مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 189
189 رہ جاتی ہیں لیکن جب دیکھا جائے کہ اس کے بعد تجد پر زور دیا گیا ہے تو ظہر کے نوافل کی کمی کا ازالہ اس سے ہو جاتا ہے۔علاوہ ازیں وتروں کے بعد بھی دو نفل رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاص تعمد سے بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔اس سے بھی ظہر اور عشاء کی رکعات برا بر ہو جاتی ہیں مگر یہ ایک وسیع مضمون ہے میں نے اشار تا اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔غرض عشاء کی نماز جو عصر کی نماز کے مقابلہ میں تھی اس میں کسی زیادتی کی گنجائش نہیں تھی۔صرف مغرب کی نماز ہی رہتی تھی جسے طاق بنانے کے لئے اس میں ایک رکعت کی زیادتی کی جاسکتی تھی۔اس حکمت کے ماتحت خد اتعالیٰ نے مغرب کی نماز کی تین رکعتیں مقرر کر دیں کیونکہ کسی نماز کا تین رکعت پر مشتمل ہو نا نمازوں کے طاق بنانے کے لئے ضروری تھا اور ادھر ضروری تھا کہ یہ زیادتی رات کی نمازوں میں کی جائے یہ جتانے کے لئے کہ مصیبت کے وقت انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے مگر رات کی نمازوں میں سے فجر میں یہ زیادتی نہیں کی جاسکتی تھی کیونکہ وہاں لمبی تلاوت قرآن کا حکم دے دیا گیا تھا۔عشاء کی نماز میں بھی یہ زیادتی نہیں ہو سکتی تھی صرف مغرب کی نماز رہتی تھی۔سوخدا نے مغرب کی نماز میں مسلمانوں کو تین رکعت پڑھنے کا حکم دے دیا۔اب بظاہر اس حکمت کے بتانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ یہ ایسا معاملہ ہے جس پر امنا و صدقنا کہنا چاہئے نہ یہ کہ تفصیلات میں پڑکر انسان بار یک دربار یک حکمتیں معلوم کرنے کی کو شش کرے اور اگر ایسی ہی باتوں میں انسان مصروف ہو جائے تو کہہ سکتا ہے کہ پہلے رکوع کیوں رکھا اور سجدہ بعد میں کیوں رکھا کیوں نہ سجدہ پہلے رکھ دیا اور رکوع بعد میں اور گو اس میں بھی عمتیں ہیں مگر تمہارا کام یہ نہیں کہ تم ان باتوں میں اپنا وقت ضائع کرو۔تمہیں جب رکوع کرنے کو کہا جاتا ہے تو تم رکوع کرو۔جب سجدہ کرنے کو کہا جاتا ہے تو سجدہ کرو۔تم پر جب نماز کی حقیقت منکشف ہو چکی ہے تو تمہارا یہ کام ہے کہ جس طرح خدا نے نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ہے اسی طرح تم نمازیں پڑھو نہ یہ کہ چھوٹی چھوٹی بات کی حکمت دریافت کرنے کے پیچھے لگ جاؤ۔تو ضروری نہیں ہو تا کہ ان باتوں کی ظلمتیں سمجھائی جائیں مگر بعض دفعہ اللہ تعالی سمجھا بھی دیتا ہے اور اس طرح قرآنی علوم کھولتا رہتا ہے۔بہر حال مباحثات کے باب میں میرا وسیع تجربہ یہ ہے کہ قرآنی علوم کا مقابلہ کوئی دشمن نہیں کر سکتا قرآنی علوم ایسے ہیں کہ ان کا مقابلہ کوئی دشمن نہیں کر سکتا۔اگر ہماری جماعت کے نوجوان ان قرآنی علوم کو سیکھ لیں تو جو دلائل اور براہین کی لڑائی ہے اس میں کوئی بڑے سے بڑا لشکر بھی ان کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا۔دوسری چیز عمل ہے۔اگر نوجوان اخلاق فاضلہ سیکھ لیں اور پھر عملی طور پر بھی ان کا قدم ہمیشہ آگے کی طرف بڑھتا چلا جائے تو دنیا کیا بڑے بڑے دینوں پر بھی وہ غالب آسکتے ہیں۔تیسری چیز سامانوں کی کمی ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان کامیابی سے محروم رہ جاتا ہے۔اس کے لئے میں نے دعا کا طریق بتایا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضل نازل