مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 188

188 رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اگر کبھی عشاء کے وقت وتر پڑھ لیتے تو تہجد کے وقت ایک رکعت پڑھ کرا نہیں جفت کر دیتے تاکہ تہجد کے آخر میں آپ کو تر پڑھ سکیں اور ان کے پڑھنے سے نوافل جفت نہ ہو جائیں۔اب اس پر سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ مغرب کی نماز کی ہی تین رکھتیں کیوں مقرر کی گئی ہیں کسی اور نماز کی تین رکھتیں کیوں مقرر نہیں کردی گئیں تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سوال کا بھی جواب سمجھایا اور وہ یہ کہ دن کی نمازوں کی رکعات ہیں آٹھ اور رات کی فرض نمازوں کی رکعات ہیں نو۔چنانچہ دیکھ لو مغرب کی تین ، عشاء کی چار اور فجر کی دو کل نو رکعت بنتی ہیں۔چونکہ مغرب کی نماز سورج ڈوبنے کے بعد پڑھی جاتی ہے اور فجر کی نماز سورج نکلنے سے پہلے پڑھی جاتی ہے اس لئے یہ دونوں نمازیں بھی دراصل رات کی ہی نمازیں ہیں۔اور ان نمازوں کی ایک رکعت مصیبتوں کے وقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ جھکنا چاہئے زیادہ کرنے میں ایک حکمت یہ ہے کہ انسان کو تکلیفوں اور مصیبتوں کے وقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف زیادہ جھکنا چاہئے تاکہ وہ اس کے فضلوں کو جذب کر سکے۔اسی لئے دن کے وقت اللہ تعالی نے آٹھ رکعات نماز کی رکھیں اور رات کے وقت نو۔باقی رہا مقام کا سوال کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ایک رکعت کی زیادتی مغرب میں کیوں کی ہے کسی اور نماز میں کیوں نہیں کر دی تو اس کا جواب بھی اللہ تعالیٰ نے مجھے سمجھایا اور وہ یہ کہ صبح کے وقت اللہ تعالیٰ کے فرشتے خاص طور پر نازل ہوتے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو بندوں کی تلاوت قرآن کی خبر دیتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جب انسان سو کر اٹھتا ہے تو اس وقت اس کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے اور نئے دور کے ابتداء کے وقت ضروری ہوتا ہے کہ انسان اپنے اند ر بلند ارادے پیدا کرے اور کہے کہ میں یوں کروں گا میں ووں کروں گا اور یہ تمام باتیں چونکہ قرآن کریم میں موجود ہیں اس لئے جب سو کر اٹھنے کے بعد انسان کی زندگی کا نیا دور شروع ہوتا ہے ، اسے اس کے روحانی پروگرام کی طرف توجہ دلانے کے لئے اسلام نے اس وقت قرآن کریم کی لمبی تلاوت مقرر کر دی اور حکم دیا کہ فجر کی نماز میں قرآن کریم کی لمبی تلاوت کی جائے اور چونکہ خدا تعالیٰ کا معاملہ احکام میں یسر کا ہے ،عسر کا نہیں اس لئے فجر کی نماز اس نے باقی تمام نمازوں سے چھوٹی کر دی تاکہ لمبی تلاوت کی جاسکے۔پس فجر کی نماز کو تو اس نے چھوٹا کیا لیکن تلاوت قرآن کو لمبا کر دیا کیونکہ اس وقت اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ قرآن کریم کے مضامین بار بار سامنے آئیں۔پس فجر کی نماز کو چھوٹا کرنا ضروری تھا تا تلاوت کو لمبا کیا جاسکے۔یہ نماز در حقیقت عصر کی نماز کے مقابل پر ہے اور ظاہر میں اس کے عدد کو عصر کے ساتھ اس طرح بھی مشابہت ہو جاتی ہے کہ عصر کے ساتھ کوئی سنت موکدہ نہیں ہیں اور صبح کے ساتھ دو سنتیں ایسی ہیں جو عام موکدہ سنتوں سے بھی زیادہ موکدہ ہیں۔اس طرح صبح کی رکعتیں بھی چار ہو جاتی ہیں اور عصر کی بھی چار ہوتی ہیں۔اس کے مقابل پر عشاء کی نماز ظہر کے مقابل پر ہے اور اس میں دو سنتیں اور تین و ترلازمی ہیں۔وتر کی رکعت نکال دی جائیں تو چار نوافل ہو جاتے ہیں۔یہ ظہر کی دود و سنتیں فرض کر کے ظہر کی سنتوں کے برابر ہو جاتی ہیں لیکن اگر چھ یا آٹھ سنتیں قرار دی جائیں تو پھر یہ کم