مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 177
177 دینے کے اس زمانہ میں لوگوں کے حافظے بہت تیز ہوتے تھے۔ایک دو دفعہ ہی بات سن کر یاد کر لیتے تھے مگر اب کتابوں کے عام ہو جانے کی وجہ سے حافظہ کی تیزی کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔اس لئے خدام الاحمدیہ کو ضمنی طور پر اس طرف بھی توجہ دینی چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک قوم کی عام رغبت اس طرف نہ ہو ایک دو کی کوشش سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔پہلے زمانہ میں حافظہ کے ذریعہ لوگ عالم ہوتے تھے مگر آج کل کتابیں پڑھنے سے ہوتے ہیں۔اس لئے جماعت کے ہر فرد کو کچھ نہ کچھ لکھنا پڑھنا آنا چاہئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا اتنا خیال رکھتے تھے کہ بدر کی جنگ میں جو کفار قید ہوئے ان میں سے جو فدیہ ادا نہ کر سکتے تھے آپ نے ان کے لئے یہ شرط لگائی کہ دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں اور جب انہوں نے سکھا دیا تو ان کو چھوڑ دیا۔تو خدام الاحمدیہ کو تعلیم کے عام کرنے کی طرف خاص توجہ کرنی چاہئے۔اگر وہ یہ کر لیں تو جماعت کے اخلاق بھی بلند ہو سکتے ہیں۔پڑھنا آتا ہو تو وہ حضرت صاحب کی کتب بھی پڑھ سکیں گے۔دینی کتب کا مطالعہ کریں گے۔تصوف کی کوئی کتاب پڑھیں گے اور ان کا وقت ضائع بھی نہ ہو گا۔کتابیں پڑھنے سے ان کا ذہن صیقل ہو گا اور پھر ا خلاق بلند ہوں گے۔یہ نو چیزیں ہیں جو میں خدام الاحمدیہ کے لئے پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ان کو خصوصیت سے سامنے رکھ کر وہ کام کریں گے اور ان کو اپنا قریبی مقصد قرار دیں گے اور پھر اس کے حصول کے لئے پوری پوری کوشش کریں گے۔اس کے ساتھ کچھ اور مضامین بھی ہیں مگر اب چونکہ کافی وقت ہو گیا ہے اس لئے اسی پر بس کرتا ہوں۔اسی ہفتہ میں خدام الاحمدیہ کی طرف سے مجھے ایک درخواست آئی تھی کہ وہ تفصیلی ہدایات کے لئے مجھے ملنا چاہتے ہیں۔وہ مل کر مجھ سے ہدایات لے سکتے ہیں۔عملی سکیم اور کام کرنے کا طریق یہ ایک علیحدہ مضمون ہے جو صرف ان سے ہی تعلق رکھتا ہے اس لئے جب وہ ملیں گے تو ان کے سامنے ہی اسے بیان کروں گا۔میں امید کرتا ہوں کہ وہ استقلال اور ہمت سے کام کریں گے اور ایسے رنگ میں کریں گے کہ ساری جماعت کو شامل کر سکیں گے اور میں نے اسی غرض سے یہ خطبات پڑھے ہیں۔چند افراد کی حیثیت ایسی نہیں ہوتی کہ ان کے لئے اتنے خطبے پڑھے جائیں اس لئے ان کو ایسے رنگ میں کام کرنا چاہئے کہ وہ ساری جماعت پر حاوی ہو اور مستقل حیثیت اختیار (خطبه جمعه فرموده ۱۰ مارچ ۱۹۳۹ء مطبوعه الفضل ۲۸ مارچ ۱۹۳۹ء) کر سکے۔