مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 150
150 لطائف بیان کر دیتا ہوں جن سے ذہانت اور علم کا فرق ظاہر ہو سکتا ہے۔کہتے ہیں کوئی بادشاہ تھا۔اس نے اپنے ملک کے ایک مشہور جو تشی کو بلایا اور اپنا لڑ کا اس کے سپرد کرتے ہوئے کہا کہ اسے علم جو تش سکھا دو چنانچہ وہ اسے لے گیا اور مدت تک سکھاتا رہا۔جب اس نے تمام علم اسے سکھا دیا تو وہ بادشاہ کے پاس اسے لایا اور کہنے لگا کہ بادشاہ سلامت! میں نے جو تش کا تمام علم اسے پڑھا دیا ہے اب آپ چاہیں تو اس کا امتحان لے لیں۔بادشاہ نے اپنی انگوٹھی کا نگینہ اپنے ہاتھ میں چھپا کر لڑکے سے پوچھا کہ تم علم جو تش سے بتاؤ کہ میرے ہاتھ میں کیا ہے۔لڑکے نے حساب لگایا اور کہا چکی کا پاٹ۔بادشاہ نے اس جوتشی کی طرف دیکھا اور کہا تم نے اسے کیا پڑھایا ہے۔وہ کہنے لگا حضور ا چکی کا پاٹ بھی پتھر کا ہوتا ہے اور نگینہ بھی پتھر کا ہے۔پس میرا علم تو صحیح ہے باقی اگر آپ کے لڑکے میں ذہانت نہ ہو اور وہ اتنی بات بھی نہ سمجھ سکے کہ چیکی کا اٹ ہاتھ میں نہیں آسکتا تو میں کیا کر سکتا ہوں۔میرا علم تو بالکل صحیح ہے۔۔اسی طرح میں نے یہ لطیفہ کئی دفعہ سنایا ہے جو دراصل حضرت خلیفہ اول سے میں نے سنا ہوا ہے کہ کوئی لڑکا تھا اسے گاؤں کے بعض بڑے بڑے لوگوں نے کسی دوسرے علاقہ میں طب پڑھنے کے لئے بھیجا کیونکہ ان کے ہاں کوئی طبیب نہیں تھا۔انہوں نے خیال کیا کہ اگر یہ لڑ کا طب پڑھ گیا تو ہماری ضرورت پوری ہو جائے گی اور آئے روز جو ہمیں طبیب کے نہ ہونے کی وجہ سے تکلیف رہتی ہے، یہ رفع ہو جائے گی۔وہ لڑکا دوسرے علاقہ کے ایک مشہور طبیب کے پاس پہنچا اور کہنے لگا مجھے اپنے علاقہ کے روساء نے آپ کے پاس طب پڑھنے کے لئے بھیجا ہے کیونکہ ہمارے ہاں کوئی طبیب نہیں۔وہ کہنے لگا بڑی اچھی بات ہے اس سے زیادہ نیکی کا کام اور کیا ہو سکتا ہے۔طب سے خدمت خلق ہوتی ہے اور لوگوں کو نفع پہنچتا ہے۔پس یہ بہت ہی ثواب کا کام ہے۔تم میرے پاس رہو۔میں تمہیں تمام طب سکھا دوں گا چنانچہ وہ ان کے پاس رہنے لگ گیا۔دوسرے ہی دن وہ کسی مریض کو دیکھنے کے لئے چلے گئے اور انہوں نے اس لڑکے کو اپنے ساتھ لے لیا۔جب مریض کے پاس پہنچے تو وہ اس کے پاس بیٹھ گئے۔نبض دیکھی ، حالات پوچھے اور باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ آپ نے کل کہیں چنے تو نہیں کھائے ؟ وہ کہنے لگا ہاں کچھ چنے کھائے ہی تھے۔وہ کہنے لگے آپ کا معدہ کمزور ہے۔ایسی ثقیل چیز آپ کو ہضم نہیں ہو سکتی۔پیٹ کا دردای وجہ سے ہے آپ ایسی چیزیں نہ کھایا کریں۔پھر ایک نسخہ لکھ کر اسے دے دیا اور واپس آگئے۔جب گھر پر پہنچے تو لڑکا کہنے لگا کہ مجھے اجازت دیجئے میں اب واپس جانا چاہتا ہوں۔وہ کہنے لگے ہیں ! اتنی جلدی ! تم تو طب پڑھنے کے لئے آئے تھے۔وہ کہنے لگا بس طب میں نے سیکھ لی ہے۔ذہین آدمی کے لئے تو کوئی دقت ہی نہیں ہوتی۔وہ کہنے لگے میں نے تو تمہیں ابھی ایک سبق بھی نہیں دیا تم نے طب کہاں سے سیکھ لی۔وہ کہنے لگا ذہین شخص کو بھلا سبقوں کی کیا ضرورت ہے۔میں خدا کے فضل سے ذہین ہوں۔میں نے تمام طب سیکھ لی ہے۔انہوں نے بہتیرا سمجھایا کہ یہاں رہو اور مجھ سے با قاعدہ طب پڑھو مگر وہ نہ مانا اور واپس آ گیا۔لوگ اسے دیکھ کر بڑے متعجب ہوئے اور کہنے لگے کہ اتنی جلدی آگئے۔وہ کہنے لگا ذہین آدمی کے لئے طب سیکھنا کوئی مشکل امر نہیں۔میں تو جاتے ہی تمام طب