مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 127
127 مدعی رہی ہے۔اسی کے سچ اور جھوٹ پر بحث ہے مگر چونکہ دنیوی زندگی میں وہ آپ کی سچائی کا قائل تھا اس لئے اُس نے اپنی آخرت بھی آپ کے سپرد کر دی اور فیصلہ کر لیا کہ جب دنیوی معاملات میں جھوٹ نہیں بولتا تو یہ ممکن ہی نہیں کہ دینی معاملات میں جھوٹ بولے۔تو سچائی ایک ایسی چیز ہے کہ وہ انسان کے رعب کو قائم کر دیتی ہے۔تم اگر سچ بولنے کی ہمیشہ تلقین کرتے رہو تو تمہارا ایک ایک فرد ہزاروں کے برابر سمجھا جائے گا۔لوگ تبلیغ کرتے اور بعض دفعہ شکایت کرتے ہیں کہ اس تبلیغ کا اثر نہیں ہو تا لیکن اگر سچائی کامل طور پر ہماری جماعت میں پھیل جائے اور لوگ بھی یہ محسوس کرنے لگ جائیں کہ اس جماعت کا کوئی فرد جھوٹ نہیں بولتا تو چاہے آج کے لوگ نہ مانیں مگر ان کی اولاد میں اس بات پر مجبور ہوں گی کہ احمدیت کی صداقت کو تسلیم کریں کیونکہ جب ان کی اولادیں سنیں گی کہ فلاں شخص تھا تو بڑا سچا مگر ہمیشہ جھوٹ کی طرف لوگوں کو بلاتا رہا تو وہ حیران ہوں گی اور یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہوں گی کہ جنہوں نے ان لوگوں کو غلط عقائد میں مبتلا سمجھا انہوں نے غلطی کی۔خدام الاحمدیہ نوجوانوں میں سچ بولنے کی عادت ڈالے اور ہر خادم سے سچ بولنے کا تو نوجوانوں کو نیچ بولنے کی عادت ڈالو اور خدام الاحمدیہ کے ہر ممبر سے یہ اقرار لو کہ وہ سچ بولے گا۔عہد لے اگر وہ کسی وقت سچ نہ بولے تو تم خود اسے سزا دو۔میں نے بار ہا جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ طوعی نظام ہے اور طوعی نظام والے کو سزا دینے کا بھی اختیار ہوتا ہے۔پس اگر تم سزا دو تو تمہیں کوئی قانون اس سے نہیں روکتا۔قانون تمہیں اس بات سے روکتا ہے کہ تم جبرا کسی کو سزا دو۔لیکن جو شخص آپ ایک نظام میں شامل ہو تا اور آپ کہتا ہے کہ مجھے بے شک سزا دے لو اسے سزا دینے میں کوئی قانون روک نہیں۔بے شک بعض قسم کی سزائیں ایسی ہیں جنہیں قانون نے روک دیا مثلا قتل ہے اگر کوئی شخص اپنی مرضی سے بھی کہے کہ مجھے قتل کر دو تو دوسرا شخص اسے قتل نہیں کر سکتا۔یہ صرف حکومت کا ہی کام ہے کہ وہ مجرم کو قتل کی سزا دے لیکن اس سے اتر کر جو معمولی سزائیں ہیں وہ طوعی نظام میں دی جاسکتی ہیں۔مدرس روز لڑکوں کو پیٹتے ہیں مگر کوئی قانون انہیں اس سے نہیں روکتا اس لئے کہ طالب علم اپنی مرضی سے سکول میں جاتا اور وہ اپنی مرضی سے ایک نظام کا اپنے آپ کو پابند بناتا ہے۔پس جب وہ اپنی خوشی اور مرضی سے ایک نظام کو قبول کرتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ سزا کو بھی برداشت کرے۔پس تم اپنے اندر اسی شخص کو شامل کرو جو تمہارے نظام کی پابندی کرنے کے لئے تیار ہو اور جب کوئی شخص اس اقرار کے بعد تمہارے نظام میں شریک ہو تا ہے اور پھر کسی عہد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو تمہارا اختیار ہے کہ تم اس کو سزا دو۔پس اگر کوئی جھوٹ بولے تو تم خود اس کو سزا دو اور جس طرح مرغی اپنے بچوں کی حفاظت کرتی ہے اسی طرح تم سچائی کی حفاظت کرو۔مرغی کس قدر کمزور جانور ہے لیکن جب اس کے بچوں پر کوئی بلی یا کتا حملہ کر دے تو وہ بلی اور کتا کا بھی مقابلہ کر لیتی ہے۔پس جس طرح وہ اپنے