مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 124

124 وہ آیا تو اس نے پہلے تو وہ جگہ دیکھی جہاں مسلمانوں کا کھانا تیار ہو رہا تھا۔پھر اس نے سواریوں کا اندازہ لگایا اور واپس جاکر کہا کہ میرا اندازہ یہ ہے کہ مسلمان تین سو سوا تین سو کے قریب ہیں۔یہ کیسا صحیح اندازہ تھا جو اس نے لگایا مسلمان واقعہ میں تین سو تیرہ ہی تھے۔مگر اس نے کہا اے میرے بھائیو! میرا مشورہ یہ ہے کہ تم لڑائی کا خیال چھوڑ دو۔ابو جہل یہ سن کر جوش میں آگیا اور اس نے کہا کیوں ڈر گئے ؟ وہ کہنے لگا میں ڈر گیا ہوں یا نہیں اس کا پتہ تو میدان جنگ میں لگ جائے گا مگر میں یہ مشورہ تمہیں دے اس لئے رہا ہوں کہ میں نے اونٹوں اور گھوڑوں پر آدمیوں کو چڑھے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ موتیں دیکھی ہیں جو ان اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار تھیں۔ان میں سے ہر شخص اس نیت اور اس ارادے کے ساتھ آیا ہوا ہے کہ میں مٹ جاؤں گا مگر ناکام و نامراد واپس نہیں جاؤں گا۔ان میں سے ہر شخص کا چہرہ بتا رہا ہے کہ وہ سب کے سب یا تو خود فنا ہو جائیں گے یا تم کو فنا کر دیں گے۔پس یہ مت خیال کرو کہ یہ لڑائی ویسی ہی ہوگی جیسے عام لڑائیاں ہوتی ہیں بلکہ یہ ایک نہایت ہی اہم اور فیصلہ کن جنگ ہو گی اور یا تو وہ تمہیں فنا کر دیں گے اور اگر وہ تمہیں فنا نہ کر سکے تو وہ خود سب کے سب ڈھیر ہو جائیں گے مگر میدان جنگ سے اپنا قدم پیچھے نہیں ہٹا ئیں گے۔اور ایسی قوم کو دبانا ہی مشکل ہوتا ہے جس کا ہر فرد مرنے کے لئے تیار ہو۔یہ کیسا شاندار فقرہ ہے جو اس کی زبان سے نکلا کہ مسلمانوں میں سے ہر شخص اپنے گھر سے اسی نیت اور اسی اراده کے ساتھ نکلا ہے کہ میں فتح یا موت میں سے ایک چیز کو حاصل کئے بغیر واپس نہیں لوٹوں گا۔کیا مختصر سے فقرہ میں اس نے ان تمام قلبی جذبات کا اظہار کر دیا ہے جو مسلمانوں کے قلوب میں موجزن ہو رہے تھے۔یہ فقرہ ان تاریخی فقرات میں سے ہے جو ہمیشہ یاد رکھے جانے کے قابل ہیں کہ اے بھائیو! میں نے آدمی نہیں دیکھے بلکہ موتیں دیکھی ہیں جو اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار تھیں۔پھر دیکھ لو وہی ہوا جو اس نے کہا تھا۔وہ واقعہ میں موتیں بن کر ظاہر ہوئے یا تو وہ مرگئے یا انہوں نے کفار کو مار دیا۔جن کے لئے موت مقدر تھی وہ تو مر گئے اور جن کے لئے موت مقدر نہیں تھی انہوں نے مکہ والوں کا ایسا تہس نہس کیا کہ مکہ کے ہر گلی کوچہ میں ماتم بپا ہو گیا۔ہزار آدمی کا ایک ایسے شہر سے نکل کر لڑائی کیلئے تیار ہو جانا جس میں دس پندرہ ہزار آدمی رہتے ہوں معمولی بات نہیں۔ہر بارہ آدمی کے پیچھے ایک آدمی کا مارا جانا یا زخمی ہونا کوئی کم صدمے والی بات نہیں ہوتی۔لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ جو آدمی مارے گئے وہ چوٹی کے آدمی تھے تو ہم اور بھی زیادہ آسانی کے ساتھ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مکہ والوں کی کیا حالت ہوئی ہو گی۔ان مارے جانے والے لیڈروں میں سے ایک ایک آدمی ایسا تھا جس پر ہزاروں کا گزارہ تھا۔ابو جمل عتبہ اور شیبہ یہ سب مکہ کے لیڈر تھے۔بیسیوں ان کے نوکر تھے۔بیسیوں ان کے غلام تھے۔بیسیوں ان کی تجارت پر کام کرتے تھے اور بیسیوں کی حفاظت کے یہ ذمہ وار تھے۔پس ان میں سے ایک ایک آدمی تھائی یا چوتھائی شہر کا زمہ وار تھا اور اس ایک آدمی کا مرنا صرف اس کے رشتہ داروں کے لئے ہی نہیں بلکہ ہزاروں اور لوگوں کے لئے بھی ماتم کا موجب تھا۔اس جنگ میں شکست کھانے کے بعد مکہ والوں کی ایسی دردناک کیفیت ہو گئی کہ انہوں نے سمجھا اگر آج ماتم کیا گیا تو مکہ کی تمام عزت خاک میں مل جائے