مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 112
112 " میرا آج کا خطبہ بھی گزشتہ دو خطبات کے سلسلہ میں ہی ہے۔مگر پیشتر اس کے کہ میں اصل مضمون کو شروع کروں۔میں قادیان کے خدام احمدیہ کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ مختلف بیوت الذکر کے موذنوں کی اذانیں درست کرائیں۔بعض جگہ پر بلاوجہ موذن عربی عبارت کا ایسا ستیا ناس کر دیتے ہیں کہ واقف آدمی کے کانوں پر وہ بہت گراں گزرتا ہے۔میں نے کئی دفعہ اس طرف توجہ دلائی ہے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک اس طرف توجہ ہوئی نہیں۔جن حروف کا ادا کرنا ہمارے لئے مشکل ہے ان کے متعلق ایک پنجابی سے یہ امید رکھنا کہ وہ اہل عرب کے لہجہ کو ادا کرے بالکل غلط ہے اور میں اس پر زور نہیں دیتا۔میں صرف اس حصہ کی درستی کا مطالبہ کرتا ہوں جس حصہ کی درستی ہمارے اختیار میں ہے اور باوجود اختیار میں ہونے کے اس کی درستی کی طرف توجہ نہیں کی جاتی۔تو خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ اپنے میں سے پانچ سات نوجوانوں کو جو عربی تعلیم سے واقف ہوں ، اذان کے الفاظ سے اچھی طرح واقفیت کرا دیں۔اس کے بعد مختلف بیوت الذکر میں (اور کوشش کرنی چاہئے کہ یہ لوگ ایسے ہی ہوں جن کا تعلق مختلف بیوت الذکر سے ہو۔) ان کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ جو باقاعدہ موذن ہیں، ان کی اذانوں کی اصلاح کریں اور دوسرے لوگ بھی جو باقاعدہ موذن نہیں اگر ان کی کوئی غلطی دیکھیں تو انہیں ٹوک دیا کریں تاکہ انہیں اپنی اصلاح کا خیال پیدا ہو۔مثلاً ابھی جو اذان ہوئی ہے اس میں موذن نے حسی کے بعد اتنا لمبا الف استعمال کیا ہے جو نہ تو جائز ہے اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت ہوتی ہے۔مگر عام پنجابی لہجہ یہی اختیار کرتا ہے اور پنجابی موزن حسی نہیں بلکہ حیا کہتا ہے۔وہ سمجھتا ہے شاید اس طرح آخر میں الف زائد کر دینے اور اسے لمبا کر دینے سے آواز اونچی ہو جاتی ہے حالانکہ عرب لوگ بھی اذان دیتے ہیں اور وہ بغیر جیسا کہنے کے کام چلا لیتے ہیں۔بایں ہمہ ان کی آواز میں اتنی بلند ہوتی ہیں اور ان کی اذان اپنی ذات میں ایسی مسرت انگیز آواز کی حامل ہوتی ہے کہ وہ ایک شیریں راگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔مکہ مکرمہ میں چن کر موذن مقرر کئے جاتے ہیں اور میں نے دیکھا ہے اذان دیتے وقت ان کی آوازیں اتنی دلکش اور لطیف ہوتی ہیں کہ یوں محسوس ہوتا ہے انسان اس آواز کے ساتھ ہی زمین سے اٹھ کر آسمان کی طرف جا رہا ہے۔تو حقیقت یہ ہے کہ اس لفظ کی خوبصورتی الف چھوڑ دینے میں ہے اس کے استعمال کرنے میں نہیں اور جب الف اس لفظ میں ہے ہی نہیں تو اس کے استعمال کرنے کے کوئی معنی ہی نہیں ہو سکتے۔پس اگر وہ آئندہ کے لئے جی کے بعد الف استعمال نہ کیا کریں تو میں سمجھتا ہوں ان کی اذان پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو جائے۔اسی طرح اور بھی بہت سے نقائص ہیں جو ہمارے پنجاب میں بوجہ عربی زبان کی ناواقفیت کے اصرار سے چلتے چلے جاتے ہیں اور میں خدام احمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس نقص کی اصلاح کی کوشش کریں۔اس کے بعد میں آج کے مضمون کو لیتا ہوں۔گذشتہ خطبہ میں میں نے خدام احمدیہ کے مقاصد میں سے تین ضروری مقاصد کو لیا تھا اور بتایا تھا کہ ان کی طرف خصوصیت سے ان ایام میں انہیں توجہ کرنی چاہئے اور وہ یہ تھے:۔