مشعل راہ (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 901

مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 99

99 تعاون کی روح جو ایک حد تک ابھر چکی تھی اسے مکمل کریں اور اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ملی روح کا سبق وہ سبق ہے جو ہمارے پہلے روحانی باپ نے دیا اور سب سے پہلا الہام جو اللہ تعالی کی طرف سے نازل ہو اوہ ملی روح کے لئے ہی تھا یعنی یادم اسكُرُ أَنتَ وَ رُو جُكَ الجنة اے آدم تو اور تیرے ساتھی جنت میں رہو۔یعنی اکھٹے مل کر تعاون کے ساتھ رہو اور ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی جھگڑا نہ کرو۔زوج کے معنی بیوی کے بھی ہوتے ہیں مگر ساتھی کے معنوں میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام حضرت مسیح موعود کے الہامات قرآن کریم کی تفسیر ہیں کے الہامات میں جہاں یہ لفظ بیوی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے وہاں کئی الہام ایسے ہیں جن میں یہ جماعت کے معنوں میں آیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات در اصل قرآن کریم کی تفسیر ہیں اور الفاظ قرآنی کے جو معنی اس زمانہ میں مخفی تھے اللہ تعالی نے آپ کے الہامات میں ان کا استعمال کر کے وہ معانی ظاہر فرما دیئے ہیں اور اگر کوئی شخص آپ کے الہامات کا مطالعہ کرتا رہے تو قرآن کریم کی تفسیر میں اس کا علم بہت وسیع ہو سکتا ہے اور آپ کے الہاموں میں زوج کا لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔کہیں اس کے معنی بیوی کے ہیں اور کہیں مخلص جماعت کے اور زوج کے معنوں میں یہ امتیاز معلوم کرنے کے بعد جب اسے قرآن کریم کی اس آیت پر چسپاں کریں تو وسیع مطالب کھل جاتے ہیں۔غرض یادم اسكن انتَ وَزَرُ جُكَ الحنة کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ آدم اور اس کی بیوی جنت میں رہیں۔مگر اس کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ آدم اور اس کے مخلص ایک جگہ مل کر رہیں اور محبت سے رہیں۔تعاون کا مفہوم جنت کے لفظ سے نکلتا ہے۔جنت کی تشریح تعاون کا مفہوم۔جماعتی نظام کو نمایاں کرو اسلام نے یہ کی ہے کہ دلوں سے کینہ و بغض نکال دیا جائے گا اور جب یہ حکم ہو کہ جنت میں رہو تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اپنی زندگی میں جنت کی کیفیات پیدا کرو اور باہم تعاون کے ساتھ رہو۔ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی جھگڑا اور گالی گلوچ سے بچو۔جماعتی نظام کو نمایاں کرو اور شخصی وجود کو اس کے تابع رکھو۔اور دراصل اس کے بغیر حقیقی تعاون کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔حقیقی تعاون کے لئے یہ اشد ضروری ہے کہ انسان شخصی آزادی کو قربان کر دے۔دو شخص اکٹھے چل رہے ہیں۔ایک تیز چلنے والا ہے اور دو سوا کمزور اب دونوں کے اکٹھا چلنے کی صورت یہی ہو سکتی ہے کہ تیز چلنے والا اپنی رفتار کو کم کر دے اور آہستہ چلنے لگے کیونکہ کمزور تو تیز نہیں چل سکتا۔ایک بوڑھا جو لاٹھی ٹیک کر چلتا ہے اور ایک تیز چلنے والا نوجوان اکٹھے چلیں اور بوڑھا یہ امید رکھے کہ نوجوان آہستہ چلے اور نوجوان یہ کہ بوڑھا تیز چلے تارونوں اکٹھے چل سکیں تو تم سمجھ سکتے ہو کہ دونوں میں سے کس کی امید جائز سمجھی جائے گی یقینا بوڑھے کی کیونکہ بوڑھا اگر کوشش بھی کرے تو بھی تیز نہیں چل سکتا لیکن نوجوان آہستہ چل سکتا ہے اور اگر چاہے تو اپنی رفتار کو سست کر کے بوڑھے کو