مشعل راہ (جلد اوّل) — Page 96
ذکر خدا پر زور دے ذکر خُدا پر زور دے ظلمت دل مٹائے جا گوہر شب چراغ بن دُنیا میں جگمگائے جا دوستوں دشمنوں میں فرق و اب سلوک یہ نہیں آپ بھی جام نے اُڑا غیر کو بھی پلائے جا خالی اُمید ہے فضول نعي عمل بھی چاہیے ہاتھ بھی تو بلائے جا اس کو بھی بڑھائے جا جو لگے تیرے ہاتھ سے زخم نہیں علاج ہے میرا نہ کچھ خیال کر زخم یونہی لگائے جا مانے نہ مانے اس سے کیا بات تو ہوگی دو گھڑی قصه دل طویل کر بات کو تو بڑھائے جا کشور دل کو چھوڑ کر جائیں گے وہ بھلا کہاں آئیں گے وہ یہاں ضرور تو انہیں بس بلائے جا منزل عشق ہے کٹھن راہ میں رابزن بھی ہیں پیچھے نہ مڑ کے دیکھ تو آگے قدم بڑھائے جا عشق کی سوزشیں بڑھا جنگ کے شعلوں کو دبا پانی بھی سب طرف چھڑک آگ بھی تو لگائے جا