مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 83
83 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم بغیر اپنے نفس کی بدی کے جوش کو دبا نہیں سکتے اور جب تک نفس کی بدی کا جوش نہ دبے، نہ ہی نیکیاں کرنے کی توفیق مل سکتی ہے اور نہ ہی برائیوں سے بچنے میں کوئی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواة والسلام فرماتے ہیں کہ:۔امارہ کی حالت میں انسان جذبات اور بے جا جوشوں کو سنبھال نہیں سکتا اور اندازہ سے نکل جاتا ہے ) ( ملفوظات جلد اول جدید ایڈیشن صفحہ 64) اور امارہ جیسے کہ میں نے آیت کے ترجمے میں بھی بتایا ہے بدی کا حکم دینے والے جذبات ہیں۔پس ان کو اگر قابو میں کرنا ہے تو بہت زیادہ استغفار کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : "استغفار کے حقیقی اور اصلی معنی یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اندر لے ے۔ریویو آف ریلیجنز مئی 1902ء جلد نمبر 1 صفحہ 188,187 ) پس جب تک آپ اللہ تعالیٰ کے حضور یہ درخواست کرتے رہیں گے کہ ہماری کمزوریوں کی پردہ پوشی فرما اور باوجود ہماری کمزور حالت کے اپنی تمام تر قدرتوں اور طاقتوں کے صدقے ہماری ایسی حالت بنادے کہ ہماری کمزوریوں کی طرف اور برائیوں کی طرف مائل ہونے والی فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے کر ہمیں نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرماتا چلا جا، کیونکہ تو وہ قادر وتوانا اور طاقتور ہستی ہے جس کے سہارے پر کھڑے ہوئے بندے بھی مضبوط بن جاتے ہیں اور ان کو شیطانی حملے اور حربے کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔نوجوانی میں شیطانی حملے بہت ہوتے ہیں پس یہ حالت پیدا کرنے کی کوشش کریں ، خاص طور پر جب ایسی عمر میں پہنچتے ہیں، نو جوانی میں قدم رکھ رہے ہوتے ہیں، 16 سال سے 18 سال تک کی ، 20 سال تک کی عمر بلکہ اس سے بھی اوپر، تو شیطان کے حملے بھی بڑی تیزی سے شروع ہو جاتے ہیں۔خاص طور پر جو 15, 16, 17 سال کی عمر ہے بہت خطرناک ہے۔ہر ایک کو سکول میں، کالج میں جذبات کو ابھارنے والے، برائیوں کی طرف مائل کرنے والے نئے نئے حالات کا سامنا رہتا ہے۔لڑکوں لڑکیوں کی Mix Gathering ہوتی ہے۔ان میں جب کھلے عام مختلف