مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 53 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 53

مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 53 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی سے فائدہ اٹھانا چاہیے بجائے اس کے اس کو لغویات میں ضائع کیا جائے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر فائز ہونے کے بعد تو ایسی حالت تھی عبادت کی کہ ان کو الفاظ میں بیان ہی نہیں کیا جاسکتا۔تبھی تو حضرت عائشہ نے کہا تھا جب آپ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت اور نوافل کے بارے میں کسی نے پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ وہ اتنی لمبی اور پیاری اور حسین ہوا کرتی تھیں کہ اس نماز کی لمبائی اور حسن و خوبی کے متعلق مت پوچھو یعنی الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتی وہ چیز یہ تھا نمونہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا کہ ”میں نے جن وانس کو عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔اس کے بعد کس طرح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا یہ انسان کامل اُس سے لمحہ بھر بھی غافل رہتا یا ادھر ادھر ہوتا۔آپ کے اس طرح اللہ تعالیٰ کی یاد اور اُس کے ذکر میں ہر وقت ڈوبے رہنے کی تعریف اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں فرمائی ہے۔آپ سے یہ اعلان کروایا ہے۔کہ تو کہہ دے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لے ہے۔جو تمام جہانوں کا رب ہے۔“‘ پس یہ اعلان کروا کر ایک معیار اور نمونہ ہمارے سامنے رکھ دیا ہے کہ جس کو تم نبی مانتے ہو، جس کو نبی مانے کا تمھارا دعویٰ ہے،اس کی تو یہ حالت ہے۔تم بھی اپنا سب کچھ اللہ کی خاطر کرنے کی کوشش کرو۔اللہ کوہی اپنا رب سمجھو جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور یہاں تک پہنچایا ہے۔اگر ہر ایک اپنی پہلی حالت پر غور کرے اور پھر دیکھے کہ ہمارے رب کے ہمارے اوپر کتنے احسانات ہیں تو اس کے احسانوں کے آگے جھکتے چلے جائیں گے۔اور پھر ہماری عبادتیں بھی خالص اللہ کے لئے ہو جائیں گی۔ورنہ اگر دنیا کی چیزوں کو ، اپنے کاروبار کورب سمجھتے رہے اور اپنی نمازوں کی حفاظت نہ کی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ نماز کو چھوڑنا انسان کو شرک اور کفر کے قریب کر دیتا ہے۔پس ہر احمدی کی ہر خادم کی اصلاح تب ہوگی ، اس کا خدا سے تعلق تب پیدا ہوگا ، دنیا کے کاروبار اور مصروفیتوں کے بت تب ٹوٹیں گے جب آپ اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے بنیں گے۔ورنہ اللہ اکبر کے نعرے بھی کھو کھلے ہیں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے جو دعوے ہیں وہ بھی کھو کھلے ہیں۔ہر احمدی کو چاہیے کہ اس کی حفاظت کی کوشش کرے اور ہر خادم کو چاہیے کہ اس کی حفاظت کی کوشش کرے۔پہلے سے بڑھ کر اپنے نمازوں کے معیار کو بڑھائیں۔ہر حالت میں سچائی پر قائم رہیں پھر سچائی ہے۔ہر حالت میں سچائی پر قائم رہنا ہے۔اس بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا