مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 27
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 27 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطوط کے ذریعہ سے میرے علم میں آتے رہتے ہیں ، ہر اس جگہ پر جہاں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے ذہنوں میں خناس سمایا ہوا ہے ان کو اس سے باہر نکلنا چاہئے اور استغفار کرنی چاہئے۔ہر کمیشن تقوی شعار لوگوں پر مشتمل ہونا چاہیے دوسرے نیشنل امراء سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب کسی بھی قسم کی تحقیق کے لئے کمیشن بناتے ہیں تو تلاش کر کے تقویٰ شعار لوگوں کے سپرد یہ کام کیا کریں۔یا اگر میرے پاس کسی کمیشن کے بنانے کی تجویز دی جاتی ہے تو ایسے لوگوں کے نام آیا کریں جو تقویٰ پر چلنے والے ہوں اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہوں اور اطاعت کے اعلیٰ معیار کے حامل ہوں۔کسی بھی فریق سے ان کا کسی بھی قسم کا تعلق نہ ہو۔عہد یدار خلیفہ وقت کی اطاعت کے اعلیٰ معیار قائم کریں اسی طرح امراء اور مرکزی عہدیداران کو بھی میں کہتا ہوں کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ جماعت کے تعاون اور اطاعت کے معیار بڑھیں تو خود خلیفہ وقت کے فیصلوں کی تعمیل اس طرح کریں جس طرح دل کی دھڑکن کے ساتھ نبض چلتی ہے۔یہ معیار حاصل کریں گے تو پھر دیکھیں کہ ایک عام احمدی کس طرح اطاعت کرتا ہے کیونکہ ایک احمدی کے لئے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے اور اس یقین پر قائم ہے کہ اب یہ سلسلۂ خلافت چلنا ہے انشاء اللہ اور جیسا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ دائگی اور ہمیشہ رہنے والا سلسلہ ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان میں ترقی کرنے والے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کرنے والے ہوں گے، تو احمدی کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد سب سے زیادہ اطاعت اولوالامر کے طور پر خلیفہ وقت کی اطاعت ہے۔پھر مرتبے کے لحاظ سے ہر سطح پر جماعتی نظام کا ہر عہد یدار قابل اطاعت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نظام اور اولوالامر کی اطاعت یہ معیار بنے گی تمہارے ایمان کی حالت کی اور اس بات کی کہ حقیقت میں تم یوم آخرت پر ایمان لانے والے ہو۔اس یقین پر قائم ہو کہ مرنے کے بعد خدا کے حضور حاضر ہونا ہے اور وہاں یہ سوال بھی ہونا ہے کہ تم نے اپنی بیعت کے بعد اپنی اطاعت کے معیار کو کس حد تک بڑھایا ہے۔وہاں غلط بیانی ہو نہیں سکتی۔کیونکہ جسم کے ہر عضو نے گواہی دینی ہے اور اس دن کسی کا کوئی