مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 180
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 180 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی خطبہ جمعہ فرمودہ 13 اپریل 2007ء سے اقتباس نماز با جماعت میں صنفیں سیدھی رکھیں نماز باجماعت کے ضمن میں ہی ایک اہم بات یہ ہے کہ ( بیت الذکر) میں آ کے ہم نماز پڑھتے ہیں تو ( بیت الذکر ) کے کچھ آداب ہیں جسے ہر (بیت الذکر ) میں آنے والے کو یاد رکھنا چاہیئے۔نماز باجماعت جب کھڑی ہوتی ہے تو آداب میں سے ایک بنیادی چیز صفوں کو سیدھا رکھنا ہے اور اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی اہمیت دی ہے کیونکہ اس سے ایک وحدت کی شکل پیدا ہوتی ہے۔حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں کی صفوں کو سیدھا کرنے کے لئے ہمارے کندھوں پر ہاتھ رکھتے اور فرماتے صفیں سیدھی بناؤ اور آگے پیچھے نہ ہو ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف بھر جائے گا۔میرے قریب زیادہ علم والے سمجھدار لوگ کھڑے ہوں پھر وہ لوگ جو رتبے میں ان سے قریب ہوں۔پھر وہ لوگ جو ان سے قریب ہوں۔(مسلم کتاب الصلوۃ باب لتسوية الصفوف)۔تو صفیں سیدھی کرنے کی بڑی اہمیت ہے۔آپس میں تعلقات کے لئے بھی اور ایک ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنے کے لئے بھی۔خواتین کو بطور خاص نصیحت صفیں سیدھی کرنے کے ضمن میں یہاں میں آج عورتوں کو بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں، یہ عمومی شکایت عورتوں کی طرف سے آتی ہے، یہاں بھی اور مختلف ممالک میں جب بھی میں دورے پر جاؤں عموماً عورتیں جمعہ پر اور جمعہ کے علاوہ بھی ( بیت الذکر) میں بعض دفعہ نماز پڑھنے آ جاتی ہیں۔لیکن شکایت یہ ہوتی ہے کہ عورتیں صفیں سیدھی نہیں رکھتیں اور لجنہ کی انتظامیہ بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں دیتی۔بلکہ بعض دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ عہدیداران خود بھی ٹیڑھی میڑھی صفوں میں کھڑی ہوتی ہیں، بیچ میں فاصلہ ہوتا ہے ، خاص طور پر جلسے