مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 177 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 177

مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 177 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی ایسا عمل سرزد نہ ہو جس کا اثر پھر آخر کار یا نتیجتا مجھ پر بھی پڑے۔دیانتدار عہدیداران کا انتخاب کریں یہاں جماعت کو بھی یہ توجہ دلا دوں کہ آپ لوگ بھی اپنی ذمہ داری کا صحیح حق ادا نہیں کر رہے ہوں گے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ خادم مالک کے مال کا نگران ہے، اگر آپ اس ذمہ داری کا حق ادا کرتے ہوئے اُسے ادا نہیں کر رہے جو خلیفہ وقت نے آپ کے سپرد کی ہے۔اس کی صحیح ادائیگی نہ کر کے آپ بھی اس مال کی نگرانی نہ کرنے کے مرتکب ہورہے ہوں گے۔جب خلیفہ وقت نے آپ سے مشورہ مانگا ہے تو اگر آپ صحیح مشورہ نہیں دیتے تو خیانت کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔اگر انصاف سے کام لیتے ہوئے ان لوگوں کو منتخب نہیں کرتے جو اس کام کے اہل ہیں جس کے لئے منتخب کیا جارہا ہے، اگر ذاتی تعلق، رشتہ داریاں اور برادریاں آڑے آ رہی ہیں تو اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی بھی نافرمانی کر رہے ہیں کہ تؤدوا الامانات الى اهلها یعنی تم امانتیں ان کے مستحقوں کے سپر د کر وجو ہمیشہ عدل پر قائم رہنے والے ہوں۔اور اس اصول پر چلنے والے ہوں کہ جب بھی فیصلہ کرنا ہے تو اس ارشاد کو بھی پیش نظر رکھنا ہے کہ تَحْكُمُوا بِالْعَدْل کہ انصاف سے فیصلہ کرو۔جو ذ مہ داریاں سپرد کی گئی ہیں ان کو انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے ادا کرو۔اگر نہیں تو یہ نہ سمجھو کہ یہاں داؤ چل گیا تو آگے بھی اسی طرح چل جائے گا۔اللہ کا رسول کہتا ہے کہ جزا سزا کے دن تم پوچھے جاؤ گے۔پس جماعت کا بھی کام ہے کہ ایسے عہدیداروں کو منتخب کریں جو اس کے اہل ہوں اور ذاتی رشتوں اور تعلقات اور برادریوں کے چکر میں نہ پڑیں۔اور اسی طرح خلیفہ وقت کی نمائندگی میں عہد یداروں کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے اور ان افراد جماعت کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے (جیسا کہ میں نے پہلے کہا ) جن پر اعتماد کرتے ہوئے بہترین عہدیدار منتخب کرنے کا کام سپرد کیا گیا ہے اور مالک کے مال کی نگرانی یہی ہے جو ہر فر د جماعت نے ، جس کو رائے دینے کا حق دیا گیا ہے کرنی ہے۔یہ سال جماعتی انتخابات کا سال ہے۔بعض جگہوں سے بعض شکایات آتی ہیں، ہر جگہ سے تو نہیں ، اس لئے میں اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ایسی جگہیں جہاں بھی ہیں ، جو بھی ہیں اور جہاں یہ صورتحال پیدا ہوتی ہے ان کو اس طرف توجہ دلا رہا ہوں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ ہر کام دعا سے کریں اور دعائیں کرتے ہوئے