مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 148 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 148

148 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم پیچھے ہٹا دیا، ہوتے ہوتے وہ دُور جوتیوں کے پاس چلے گئے۔اور جب وہاں پہنچے تو وہ سارے اچھے خاندانوں کے تھے ، ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے کہ ہمارے ساتھ یہ ذلت کا سلوک ہوا ہے، اور باہر نکل گئے۔باہر جا کر باتیں کرنے لگے کہ یہ تو ہمارے ساتھ آج بہت برا ہوا ہے۔ان میں سے ایک زیادہ بہتر ایمان لانے والوں میں سے تھا۔اس نے کہا کہ جو بھی ہوا یہ ہمارے باپ دادا کا قصور ہے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانا اور آج ان کی وجہ سے ہمیں ذلت اٹھانی پڑی۔بہر حال صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مقام ہے۔تو خیر انہوں نے کہا اس کا کیا علاج کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حضرت عمرؓ سے ہی پوچھتے ہیں۔تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے اور کہا کہ آج ہم سے یہ سلوک ہوا ہے۔حضرت عمرؓ نے کہا میں مجبور تھا۔میں تمہارے خاندانی حالات اور وجاہت سب کچھ جانتا ہوں لیکن صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جنہوں نے اتنی قربانیاں دی ہوئی ہیں ، ہجرت بھی کی ، جہاد میں شامل ہوئے ان کے مقابلے میں تمہاری حیثیت نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں ہمیں سمجھ آگئی کہ یہی بات ہے لیکن اس کا اب علاج کیا ہے۔حضرت عمر گوان سارے حالات کا پتہ تھا کہ بڑے اچھے خاندان کے یہ لوگ ہیں، ان کے باپ دادا نے بعض حالات میں مسلمانوں کی مدد بھی کی ہوئی ہے۔حضرت عمر بھی بڑے جذباتی ہو گئے۔آپ سے بولا نہیں گیا۔آپ نے شام کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ادھر جاؤ۔وہاں اُس زمانے میں جنگ ہو رہی تھی تو بہر حال وہ سات نوجوان تھے چلے گئے اور اس جنگ میں شامل ہوئے۔ملک سے ہجرت بھی کی اور جہاد بھی کیا اور شہادت حاصل کی۔تو وہ مقام پایا جس کا اللہ تعالیٰ نے یہاں ذکر فرمایا ہے۔رفقاء کرام کی اولادوں کی ذمہ داری پس جو ( رفقاء ) کی اولادیں ہیں میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے قربانیاں دیں تو انہوں نے مقام پایا۔اب ہم میں ( رفقاء) میں سے تو کوئی نہیں ہے صرف اتنا کہہ دینا کہ ہم (رفیق) کی نسل میں سے ہیں ، کافی نہیں ہوگا۔اگر اس زمانے میں بعد میں آنے والے اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے جہاد بھی کریں گے اور ہجرت بھی کریں گے تو وہ آپ لوگوں سے کہیں آگے نہ بڑھ جائیں۔اس لئے اس طرف توجہ رکھیں اور آپ کے بڑوں نے جو قربانیاں کیں اور جس مقام کو پایا اس کو اگلی نسلوں میں بھی قائم رکھنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے دل میں اس کی کچی طلب اور اس کے احکامات پر