مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 106
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 106 ارشادات حضرت خلیفہ مسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی وجہ سے تمہیں اور ذریعوں سے برکتوں سے بھر دے گا کہ تم سوچ بھی نہیں سکتے۔جمعہ پر تم جو ستی دکھاتے ہو اور بے احتیاطی کرتے ہو یہ اپنی بے علمی کی وجہ سے کرتے ہو۔اگر تمہیں علم ہو کہ اس کے کتنے فوائد ہیں اور اللہ تعالیٰ کس طرح اپنے فضلوں سے نوازے گا تو اتنی سستیاں اور بے احتیا طیاں کبھی نہ ہوں اور سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کبھی یہ بے احتیاطی ہو بلکہ ہمیشہ اس کوشش میں رہو گے کہ اونٹ یا گائے کی قربانی کا ثواب حاصل کرو۔پس ہر احمدی کو ہمیشہ جمعہ کی اہمیت کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہئے اور چھوٹے چھوٹے بہانے تراش کر یا تلاش کر کے اللہ تعالیٰ کے احکامات کی حکم عدولی نہیں کرنی چاہئے۔جمعہ کا خطبہ اور نماز آنے جانے سمیت زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ دو گھنٹے کا معاملہ ہے۔اور بعض لوگ جو دوسرے کام ہیں ان میں بغیر کام کے ہی بے تحاشا وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی ایک بات مکرم حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی ایک بات مجھے یاد آئی ، یہیں کہیں کسی مغربی ملک میں ان کا غیروں میں لیکچر تھا، جگہ کوئی تھی یہ تو مجھے پوری طرح مستحضر نہیں لیکن بہر حال وہاں انہوں نے ( دین حق کی ) عبادات کا ذکر فرمایا اور جمعہ کی مثال بھی دی کہ ہفتے بعد جمعہ ایک لازمی عبادت ہے، اس کے متعلق حکم ہے کہ ضرور پڑھو۔بعض لوگوں کے نزدیک یہ بہت بڑا بوجھ ہے۔انہوں نے فرمایا کہ اس میں کتنا وقت لگ جاتا ہے؟ پھر انہوں نے وقت کی مثال اس طرح دی کہ جتنا وقت دو برج (Bridge) کھیلنے والے اپنی اس برج کی کھیل کو ختم کرنے میں لگاتے ہیں اس سے کم وقت اس میں لگتا ہے۔یہ برج جو ہے یہ بھی تاش کھیلنے کی ایک قسم ہے۔تو لہو و لعب کی طرف تو توجہ ہو جاتی ہے، جمعہ کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔پس دنیا داروں کو سمجھانے کے لئے انہوں نے اس کی مثال دی تھی۔اسی طرح دوسری بے فائدہ کھیلیں ہیں ، بعض گپیں ہانکنے میں وقت لگا دیتے ہیں ، بیٹھے رہتے ہیں لیکن جمعہ پر آنے کے لئے سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ اتنا وقت ہوگا ، جائیں گے، بیٹھنا پڑے گا، خطبہ لمبا ہو گیا تو کیا کریں گے۔جماعت پر یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ میاں بیوی میں سے کوئی نہ کوئی ضرور نیکی کی طرف مائل ہوتا ہے۔بعض عورتیں اور لڑکیاں بڑی فکر سے اپنے خاوندوں کے بارے میں دعا کے لئے لکھتی ہیں کہ ہمارے میاں کو جمعہ پر جانے کی عادت نہیں اور اکثر بہانے بنا کر جمعہ ضائع کر رہے ہوتے ہیں، کوئی وجہ نہیں ہوتی۔دعا کریں کہ جمعہ پر جانے کی عادت پڑ جائے۔