مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 77
مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم 77 ارشادات حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی کرنے کے لئے اس کی عبادت کریں گے ، اس کے احکامات پر عمل کریں گے تو کس قدر وہ پیارا خدا جو اپنے بندوں سے بے انتہا پیار کرتا ہے، ہماری طرف توجہ کرتے ہوئے اپنے انعاموں اور فضلوں سے ہمیں نوازے گا۔اللہ تعالیٰ نے تو خود کہہ دیا ہے کہ میں دعائیں سنتا ہوں، مجھے پکارو تا کہ میں تمہاری سنوں تو پھر کس قدر بد قسمتی ہے کہ ہم ضرورت کے وقت دوسری چیزوں پر زیادہ انحصار کریں، دوسروں پر زیادہ انحصار کریں اور اپنے پیارے رب کو پکارنے کی طرف کم توجہ ہو۔دوسری آیت جو میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، یا پھر وہ کون ہے جو بے قرار کی دعا کو قبول کرتا ہے، جب وہ اسے پکارے اور تکلیف دور کر دیتا ہے اور تمہیں زمین کے وارث بناتا ہے۔کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ بہت کم ہے جو تم نصیحت پکڑتے ہو۔اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود کی سب سے بڑی دلیل یہ دی ہے کہ اس کی طاقتیں لامحدود ہیں صرف اور صرف وہی ذات ہے جو بے قرار کی دعا کو سنتا ہے۔لیکن پھر بھی اکثر لوگ اس بات کو بھول کر اس طرف جھکتے ہیں، اُن کو خدا سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں جو خدا کی مخلوق ہیں۔پس یہ اعلان ہی اصل میں (دین حق ) کی بنیاد ہے کہ مجھے پکارو، میں سنوں گا۔اور ایمان میں مضبوطی تبھی پیدا ہوتی ہے جب ایک سچا مسلمان اس بات کا خود تجربہ کرتا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے شرائط رکھی ہیں۔اس نے بھی بندوں کو کچھ راستے دکھائے ہیں کہ ان پر چل کر میرے پاس آؤ۔تو ان راستوں کو اختیار کرنا بھی ضروری ہے۔تبھی وہ ہمیں زمین کے وارث بنائے گا۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ اس زمانے میں ان راستوں کی واضح پہچان ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کروائی ہے۔پس اس تعلیم پر مکمل طور پر عمل کرنا بھی ہمارا فرض ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہے اور جس کی وضاحت اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمارے سامنے پیش فرمائی ہے۔اپنے قرب کی پہچان اور اپنے بندوں کی پکار کو سنے کا اعلان اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ یوں فرمایا ہے کہ {وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ لیکن فرمایا کہ تم بھی اس بات پر عمل کرو کہ {فَلْيَسْتَجِيْبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُوْنَ } (البقرة: 187) - یعنی چاہئے کہ وہ بھی میری عبادت کریں۔اللہ کے بندے بھی میری عبادت کریں، میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پائیں۔پس دعاؤں کی قبولیت کے لئے ایسا ایمان ضروری شرط ہے جو تمام