مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 20 of 200

مشعل راہ ۔ جلد پنجم (حصہ چہارم) — Page 20

20 ارشادات حضرت خلیفة المسیح الخام ایدہ اللہ تعالی مشعل راه جلد پنجم حصہ چہارم کہ اے ایمان والوں بہت سے گمانوں سے بچتے رہا کرو، کیونکہ بعض گمان گناہ بن جاتے ہیں اور تجسس سے کام نہ لیا کرو۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے اس سے ذاتی تعلقات میں بہتری کی بنیاد قائم رہے گی اور اسی سے معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ ہوگا۔بعض لوگ بعض کے بارے میں بدظنیاں صرف اس لئے کرتے ہیں کہ ذلیل کیا جائے اور دوسروں کی نظروں سے گرایا جائے اور اگر کسی جماعتی عہدیدار سے یا خلیفہ وقت سے اس کا خاص تعلق ہے تو اس تعلق میں دُوری پیدا کی جائے اور اکثر پیچھے ذاتی عناد ہوتا ہے۔جب بدظنیاں شروع ہوتی ہیں تو پھر تجسس بھی بڑھتا ہے اور پھر ہر وقت یہ بدظنیاں کرنے والے اس ٹوہ میں رہتے ہیں کہ کسی طرح دوسرے کے نقائص پکڑیں اور اس کی بدنامی کریں۔محمود غزنوی اور ایاز کا ایک واقعہ ایک واقعہ آتا ہے کہ ایک بادشاہ محمود غزنوی کا ایک خاص جرنیل تھا۔بڑا قریبی آدمی تھا۔اس کا نام ایاز تھا۔انتہائی وفادار تھا اور اپنی اوقات بھی یادر کھنے والا تھا۔اس کو پتہ تھا کہ میں کہاں سے اٹھ کر کہاں پہنچا ہوں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو یاد کرنے والا تھا اور بادشاہ کے احسانوں کو بھی یادر کھنے والا تھا۔ایک دفعہ ایک معر کے سے واپسی پر جب بادشاہ اپنے لشکر کے ساتھ جارہا تھا تو اس نے ایک جگہ پڑاؤ کے بعد دیکھا کہ ایاز اپنے دستے کے ساتھ غائب ہے۔تو اس نے باقی جرنیلوں سے پوچھا کہ وہ کہاں گیا ہے تو ارد گرد کے جو دوسرے لوگ خوشامد پسند تھے اور ہر وقت اس کوشش میں رہتے تھے کہ کسی طرح اس کو بادشاہ کی نظروں سے گرایا جائے اور ایاز کے عیب تلاش کرتے رہتے تھے تو انہوں نے اس موقع کو غنیمت سمجھا کہ بادشاہ کو اس سے بدظن کریں۔اپنی بدظنی کے گناہ میں بادشاہ کو بھی شامل کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے فوراً ایسی باتیں کرنا شروع کر دیں جس سے بادشاہ کے دل میں بدظنی پیدا ہو۔بادشاہ کو بہر حال اپنے وفادار خادم کا پتہ تھا۔بدظن نہیں ہوا۔اس نے کہا ٹھیک ہے تھوڑی دیر دیکھتے ہیں۔آ جائے گا تو پھر پوچھ لیں گے کہ کہاں گیا تھا۔اتنے میں دیکھا تو وہ کمانڈر اپنے دستے کے ساتھ واپس آ رہا ہے اور اس کے ساتھ ایک قیدی بھی ہے۔تو بادشاہ نے پوچھا کہ تم کہاں گئے تھے۔اس نے بتایا کہ میں نے دیکھا کہ آپ کی نظر بار بار سامنے والے پہاڑ کی طرف اٹھ رہی تھی تو مجھے خیال آیا ضرور کوئی بات ہو گی مجھے چیک کر لینا چاہئے ، جائزہ لینا چاہئے ، تو جب میں گیا تو میں نے دیکھا کہ یہ شخص جس کو میں قیدی بنا کر لایا ہوں ایک پتھر کی اوٹ میں چھپا بیٹھا تھا اور اس کے ہاتھ میں تیر کمان تھی تا کہ